آمدنی و مصارف

کرکٹ کے تجزیہ والے یوٹیوب چینل کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
92587
| تاریخ :
2026-02-24
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

کرکٹ کے تجزیہ والے یوٹیوب چینل کی آمدن کا حکم

محترم مفتی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ میں کرکٹ میچز کا تجزیہ (Cricket Analysis)، رپورٹنگ اور جرنلزم کرنا چاہتا ہوں۔ میں یوٹیوب اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کروں گا۔ ان ویڈیوز میں میچ کا تجزیہ، کھلاڑیوں کی کارکردگی پر گفتگو، اور کرکٹ سے متعلق معلومات شامل ہوں گی۔
ان پلیٹ فارمز (جیسے یوٹیوب وغیرہ) سے آمدن عموماً درج ذیل ذرائع سے ہوتی ہے:
اشتہارات (Ads Revenue)
اسپانسرشپ
ویوز اور مونیٹائزیشن
دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کی ادائیگی
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا کرکٹ اینالیسس اور جرنلزم کے ذریعے کمائی گئی آمدن شرعاً جائز (حلال) ہے؟
اگر اشتہارات میں بعض غیر شرعی چیزیں (مثلاً میوزک یا خواتین کی تصاویر وغیرہ) خودکار طور پر آ جائیں تو اس کمائی کا کیا حکم ہوگا؟
اس کام کو مکمل طور پر شرعی حدود میں رکھنے کے لیے مجھے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ یوٹیوب پر چینل بنا کر اس میں غیر شرعی امور (میوزک، پخش مواد غیرہ) سے پاک ویڈیوز اپلوڈ کرنا جائز اور درست ہے ، جبکہ ان ویڈیوز پر اشتہارات چلا کر اس کے ذریعے پیسے کمانے کے متعلق تفصیل یہ ہیکہ جو اشتہارات غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہوں اور نہ ہی ان کے ذریعے کسی حرام پر اڈکٹ یا عمل کی تشہیر ہوتی ہو ۔ تو اپنے ویڈیوز پر ایسے اشتہارات چلانے اور اس کے ذریعے حاصل شد ہ کمائی کو اپنے استعمال میں لانے کی بھی اجازت ہے، البتہ جو اشتہارات غیر شرعی امور پر مشتمل ہوں یا ان کے ذریعے کسی حرام پر پراڈکٹ یا عمل کی تشہیر ہوتی ہو یا وہ پر اڈکٹ ہوں تو حلال لیکن اس کی تشہیر میں کسی میوزک یا عورتوں کی بے پردہ تصاویر استعمال کی ہو، تو ایسی صورت میں اپنی ویڈیوز پر اپنے اختیار سے ایسے اشتہارات چلانا جائز نہیں، اور ایسی صورت میں ان اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ کمائی کو اپنے استعمال میں لانا بھی درست نہیں ، البتہ اگر کوئی یوٹیوبر غیر شرعی امور پر مشتمل اشتہارات کو روکنے کے لیے اپنی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرلے اور اس کے باوجود بھی یو ٹیوب کی طرف سے ویڈیو ز پر غیر شرعی امور پر مشتمل اشتہارات چلائے جاتے ہوں تو ایسی صورت میں امید ہیکہ یوٹیوب پر چینل بنانے والا اس گناہ میں شریک نہ ہو گا، تاہم ایسی صورت میں بھی اگر ممکن ہو تو ممکنہ ذرائع سے تفصیلات معلوم کر کے غیر شرعی اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کے بجائے صدقہ کرنا چاہیئے، تاہم اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو اور غیر شرعی اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ آمدنی کی مکمل تمیز نہ ہو سکے تو غالب گمان کے مطابق کچھ رقم صدقہ کرنا چاہیئے، لہذا سائل اگر غیر شرعی امور سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے تجزیہ اور رپورٹنگ کو حقائق ، معتبر معلومات اور حقیقت پر مبنی مبنی رکھے، محض شہرت حاصل کرنے یا آمدنی میں اضافے کی خاطر جھوٹی خبریں ، مبالغہ آرائی، یا گمراہ کن تجزیہ سے اجتناب کرے، تو اسکی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر المختار: قال ابن مسعود: ‌صوت ‌اللهو والغناءينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات.قلت: وفي البزازية: استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام: استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر أي بالنعمة اھ (کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 6، ص: 349، ط: سعید)
وفیہ ایضا: (و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي اھ (کتاب الحظروالاباحۃ، ج: 6، ص: 392، ط: سعید)
وفی الھندیہ: وإذا استأجر ‌الذمي ‌من ‌المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط اھ (مسائل الشیوع فی الاجارۃ، ج: 4، ص: 450، ط: ماجدیہ)
وفی فقہ البیوع: ولکن معظم استعمال التلفزیون فی عصرنا فی برامج لا تخلو من محظور شرعی، وعامۃ المشترین یشترونہ لھذہ الاغراض المحظورۃ من مشاھدۃ الافلام والبرامج الممنوعۃ وان کان ھناک من لا یقصد بہ ذلک، فبماان استعمالہ فی مباح ممکن ، فلا نحکم بالکراھۃ التحریمیۃ فی بیعہ مطلقا، الا اذا تعین بیعہ لمحظور، ولکن نظراالی معظم استعمالہ لا یخلو من کراھۃ تنریھیۃ (القسم الثالث ما وضع لاغراض عامۃ، ج: 1، ص: 325، ط: معارف القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92587کی تصدیق کریں
0     3
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • والد مرحوم کی, حلال و حرام سے مخلوط آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
Related Topics متعلقه موضوعات