السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !میں نے ابھی لیٹسٹ جاب کے لیے ٹیسٹ دیا تھا جس میں ۲ پورشن تھے ۳۰ مارکس فار ٹائپنگ ٹیسٹ اور ۱۲۰ مارکس فار ایم سی کیوز۔ اب جو ٹائپنگ ٹیسٹ تھا وہ میں نے خود کیا، اس میں میرے نمبر آئے ۳۰ میں سے ۱۹۔ اس کے بعد باری آتی ہے ایم سی کیوز ٹیسٹ کی، اس میں ۱۲۰ میں سے آل موست ۴۵ ایم سی کیوز میں نے خود اٹیمپٹ کیے، جن میں سے یقین سے میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ ۱۲ سے ۱۵ مجھے ایکزیکٹ ایم سی کیوز آتے تھے، باقی میں نے تکے مارے ہیں۔ رہی بات، اب پتا نہیں ان ۴۵ میں سے کتنے ٹھیک ہوئے اور کتنے غلط، پیچھے بچے ۔ ۷۵ میں سے میں نے کچھ جو میرے رائٹ لیفٹ پر تھے، بچوں سے پوچھ اور کچھ گوگل کر لیے ۔ آخر میں جب رزلٹ آیا تو میرا ۱۵۰ میں سے ۱۰۹ نمبر ٹوٹل آئے اور میں نیکسٹ راؤنڈ، مطلب انٹرویو کے لیے کوالیفائی کر گیا۔ اب یہ بات بھی یاد رکھیے گا کہ یہ ٹیسٹ جو بچہ بھی جسٹ ۱۵۰ میں سے ۷۵ مارکس لے گا، اس کی آل موست ۹۹٪ جاب کنفرم ہے۔ مطلب کہ ہر بندے کے پاس موقع تھا کہ وہ ۱۵۰ میں سے ۷۵ مارکس لے اور آل موست جاب کے لیے سلیکٹ ہو۔ اب مجھے بتائیے گا، اب یہ سب سچویشن میں نے آپ کے سامنے رکھ دی ہے، لہٰذا مجھے بتائیے کہ اب جو میری کمائی ہوگی، وہ حلال کی ہوگی یا یہ حرام۔ یاد رہے انٹرویو کو کوالیفائی کرنے کے لیے ۱۵۰ میں سے ۷۵ مارکس لینا لازمی تھے۔ جن بچوں کے نہیں آئے، ان کو انٹرویو کی کال ہی نہیں آئی۔ یہ سب سچویشن ہے۔ مہربانی فرما کر قرآن و سنت کی روشنی میں مجھے بتائیے کہ اب اگر میں انٹرویو کے بعد میری فائنل سلیکشن ہو جاتی ہے، جس کے قوی امکان ہیں، تو کیا میری کمائی حلال ہوگی یا حرام؟ جو میں نوکری کے پیسے کماؤں گا۔یہ بھی یاد رہے مجھے یہ لگتا ہے کہ اگر میں نے نقل نہ کی ہوتی تو اس بات کے قوی امکان تھا کہ میرے 75 نمبرز نہ آتے 150 میں سے ۔
واضح ہو کہ ٹیسٹ کے دوران دوسروں سے پوچھنا، گوگل سے جواب تلاش کرنا، یا ایسے ذرائع استعمال کرنا جن کی امتحانی نظام میں اجازت نہ ہو، شرعاً دھوکہ اور خیانت کے زمرے میں آتاہے، جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ۔ لہٰذا سائل کا یہ عمل خصوصاً جبکہ خود سائل کے بیان کے مطابق غالب گمان یہ ہے کہ اس مدد کے بغیر مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہوتے، درست نہیں ، چنانچہ ملازمت حاصل کرنے کے مرحلہ میں غیر شرعی طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے سائل پر توبہ واستغفار لازم ہے، اور آئندہ ایسے امور سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔
البتہ اگر سائل امتحان میں حاصل کردہ نمبرات کے انٹرویوں میں کامیابی حاصل کرکے اس کی بنیاد پر ملازت کا اہل قرار پائے اور پھر اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور اہلیت کے ساتھ ادا کرے ، تو محض امتحان میں اس غلطی کے ارتکاب کی وجہ سے اس کی تنخواہ کو حرام نہیں کہا جائے گا؛ بلکہ اس ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ حلال ہوگی۔
کما فی سنن الترمذی: قالﷺ؛من غشّ فلیس مِنّا(ج3 ص598)۔
وفی الھندیہ:الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها(كتاب الاجارة، الباب الثاني ،متي يجب الاجر ج 4 ص 413 ط: المكتبة الرشيدية)