السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
محترم و مکرم سوال یہ ہیکہ حرام کاروبار میں یا ناجائز کاروبار میں جو پیسے کا لین دین ہوا ہو انجانے میں، بعد میں اس شخص کو معلوم ہو کہ یہ کام حرام و ناجائز ہے توان پیسوں کاکیا کیا جائے ؟واضح رہے کہ اس شخص کو معلوم ہو کہ یہ پیسے فلاں شخص سے میں نے لیے ہیں تو پیسے اسے واپس کریں ؟یا کہیں اور خرچ کر دے؟آپ ہمیں شریعت اسلام سے آگاہ کریں ۔
جزاک اللّٰہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں جب معلوم ہے کہ یہ مال، مالِ حرام ہے اور فلاں شخص کا ہے تو اس مال کو جلد از جلد متعلقہ شخص یا اس کے ورثاء کو پہنچانا اور ادا کرنا لازم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ ایامِ گزشتہ میں جو گناہ حرام کاروبار کا ہوا ہے اس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس سے بچنے کا پختہ عزم کرے تاکہ مؤاخذۂ اُخروی سے سبکدوشی ہو سکے۔
و فی الشامیۃ: والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه الخ (مطلب فيمن ورث مالاً حراماً، ج:5 ص 55ط: سعيد)۔