میں وفاقی حکومت (Federal Government) کا ملازم ہوں، وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں میں ہاؤس رینٹ الاؤنس دیا جاتا ہے، جو کہ بہت قلیل مالیت کا ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ مخصوص اداروں اور خودمختار اداروں (مثلاً: واپڈا) میں جو لوگ دارالحکومت (اسلام آباد) اور 4 صوبائی دارالحکومتوں (کراچی، کوئٹہ، پشاور، لاہور) میں تعینات ہوں، وہ اپنے ملازمین کو ہاؤس رینٹ کے متبادل ہاؤس ہائرنگ سیلنگ کی سہولت دیتے ہیں، جس میں ملنے والی رقم اور ہاؤس رینٹ الاؤنس کی مد میں دی جانے والی رقم میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر گریڈ 14 سے 16 کے ملازمین کو ہائرنگ سیلنگ کی مد میں اسلام آباد میں سکونت کی صورت میں مبلغ 45,073 روپے، جبکہ باقی چار شہروں میں سکونت کی صورت میں 37,665 روپے ماہانہ بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔
جبکہ دوسری طرف باقی ملازمین، بشمول ایسے اداروں کے جو ہائرنگ سیلنگ کی سہولت نہیں لے رہے، ان کو 3,321 روپے سے 3,524 روپے ہاؤس رینٹ کی مد میں دیے جاتے ہیں۔ درج بالا دونوں الاؤنسز میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
ہاں البتہ ہائرنگ کی سہولت کے لیے حکومت کی طرف سے کچھ کڑے اصول و ضوابط طے کیے گئے ہیں۔ جیسے کہ:
1۔ ملازم لازمی شادی شدہ ہو، یا کنوارہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں والدین میں سے ایک کا ساتھ ہونا لازمی ہو۔
2۔ ملازم کی اپنی اور فیملی کی رہائش ان 5 شہروں میں ہو۔
3۔ اگر ملازم ان 5 شہروں سے باہر تعینات ہے تو کچھ محکمے اس صورت میں کہ ملازم کی فیملی اگر ان 5 شہروں میں سے کسی شہر میں مقیم ہے، تو بھی اپنی فیملی کی رہائش کو بطورِ عذر بتا کر ہائرنگ کی سہولت لینے کی اجازت دیتے ہیں۔
لیکن ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ اکثر لوگ اس معیار پر پورا نہ اترنے کے باوجود زیادہ رقم کے حصول اور ہائرنگ کی سہولت کے لیے غلط بیانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کی پوسٹنگ چترال یا گلگت میں ہے اور وہ وہیں فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہے، وہ ادارے میں اپنی فیملی کی رہائش اسلام آباد یا لاہور بتا کر ہائرنگ کی سہولت لے رہے ہوتے ہیں، جو کہ صرف اور صرف غلط بیانی کی وجہ سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔
اور یہ تاویل کرتے ہیں کہ جب ایک صورت یا ایک شہر والے اس کے حقدار ہیں تو وہ بھی حقدار ہیں، اور اس کو حکومت کا دوہرا معیار قرار دے کر اس کو لیتے رہتے ہیں۔ جبکہ اگر اس بات کو بنیاد بنایا جائے تو حکومت کچھ علاقوں میں کام کرنے والے لوگوں کو کچھ اضافی سہولتیں یا اضافی تنخواہ دیتی ہے۔ جیسے چترال و گلگت میں کام کرنے والوں کو ہارڈ ایریا الاؤنس اور فیول الاؤنس کی مد میں تنخواہ میں اضافی ادائیگی کی جاتی ہے۔ اگر دوہرے معیار کو بنیاد بنایا جائے تو یہاں بھی دوہرا معیار نظر آئے گا کہ باقی شہروں کے ملازمین کو ایسی کوئی اضافی ادائیگی نہیں ہوتی۔ اگر حکومت کے قانون اور ہائرنگ کے رولز ریگولیشن کو دیکھیں تو غلط بیانی سے لی جانے والی ہائرنگ دھوکا اور فریب ہے اور قابلِ گرفت ہے۔
آپ سے درخواست ہے کہ آیا اس بیان کردہ صورت (اپنی رہائش 5 شہروں میں سے کسی ایک میں غلط بتا کر) میں ہائرنگ کی رقم لینا جائز ہوگی؟
جبکہ وہ ملازم اپنی پوسٹنگ مخصوص علاقوں میں ہونے کی وجہ سے ہارڈ ایریا یا فیول الاؤنس سے بھی مستفید ہو رہا ہو۔
اور اگر یہ ناجائز اور حرام ہے تو اب تک جو رقم پچھلے عرصوں میں وصول کر چکے ہیں، اس کے متعلق کیا حکم ہوگا؟
واضح ہو کہ کسی ادارے کی طرف سے کسی الاؤنس و غیرہ کے لیے جو شرائط و ضوابط طے کیے جاتے ہیں، تو اس الاؤنس وغیرہ کا حصول انہیں شرائط و ضوابط کے ساتھ منسلک ہوگا؛ چنانچہ جو شخص ان شرائط پر پورا اترتا ہو، فقط وہی اس الاؤنس وغیرہ کا حقدار ہوگا۔ لہذا اگر کسی سرکاری یا پرائیویٹ ادارے کی طرف سے ہائرنگ سیلنگ کی سہولت کے حصول کے لیے وفاقی یا صوبائی دار الحکومتوں کی رہائش کو شرط قرار دیا گیا ہوتو اس سہولت سے مستفید ہونے کا حقدار وہی شخص ہوگا جو ان شہروں میں رہائش پذیر ہولہذا دیگر شہروں کے رہائشی حضرات کے لیے اس شرط کو دوہرا معیار قرار دے کر غلط بیانی اور دھوکہ دہی کے ذریعے اپنے آپ کو ان شہروں کا رہائشی ظاہر کر کے اس سہولت سے مستفید ہونا جائز نہیں اور اب تک دھوکہ دہی سے جتنی رقم اس مد میں وصول کی ہے، وہ کسی طرح مناسب طریقے سے ادارے کو واپس کرنا لازم اور ضروری ہے۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيها الناس، إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: (يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا، إني بما تعملون عليم) وقال: يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم)ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك؟ ۔اھ (ج2، ص703، ط: دار احیاء التراث)۔
وفی صحیح مسلم:عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: "أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني"(رقم الحدیث102،ج1،ص99،ط:دار إحياء التراث)۔
و فی مشکاۃ المصابیح :عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.اھ(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، ص: 255، ط: قديمي)