کیا آغا خانی ادارے سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے؟
میں آغا خان کالج میں بطور ٹیچر ملازمت کرنا چاہتا/چاہتی ہوں، لیکن مجھے یہ شبہ ہے کہ اس ادارے سے ملنے والی تنخواہ حلال ہوگی یا حرام؟ براہِ کرم اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔
آغا خان کالج میں جائز تدریسی خدمات انجام دینے پر حاصل ہونے والی تنخواہ شرعاً حلال ہے۔ محض اس ادارے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اس ملازمت کی آمدنی کو حرام قرار نہیں دیا جائے گا۔
کما فی الھندیۃ: مسلم آجر نفسه من مجوسي ليوقد له النار لا بأس به. كذا في الخلاصة(الی قولہ) ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر. كذا في المحيط الخ(450/4)۔
وفی الدرالمختار: (و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر)۔
وفی ردالمحتار:تحت(قولہ قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل(391/6)۔