السلام علیکم حضرت!
ابھی حال ہی میں حکومت نے فیول سبسڈی کے نام سے 2000 روپے کی ایک رقم کا اعلان کیا تھا۔ غلطی سے میں نے بھی اس کے لیے درخواست دے دی، اور وہ رقم میرے اکاؤنٹ میں موصول بھی ہوگئی۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم میرے لیے جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، وہ مجھے ماہانہ فیول کے اخراجات ادا کرتی ہے، جو مارکیٹ میں فیول کی قیمت کے حساب سے ہوتے ہیں، جبکہ حکومت نے یہ اسکیم ان افراد کے لیے رکھی تھی جن کی ماہانہ آمدنی 40,000 روپے سے کم ہو۔
میری ماہانہ تنخواہ 87,000 روپے ہے۔
براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
اگر حکومت کی مذکورہ فیول سبسڈی صرف ان افراد کے لیے مقرر کی گئی تھی جن کی ماہانہ آمدنی 40,000 روپے سے کم ہو، اور سائل کی ماہانہ آمدنی 87,000 روپے ہے، تو سائل مذکورہ سبسڈی کا اہل نہیں تھا؛ چنانچہ اس کے لیے 2,000 روپے کی مذکورہ رقم وصول کرنا جائز نہیں۔ لہٰذا اگر رقم وصول ہوچکی ہے تو اسے متعلقہ حکومتی ادارے کو واپس کرنا لازم ہے، اور اگر واپسی ممکن نہ ہو تو مذکورہ رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو بغیر ثواب کی نیت کے دے دی جائے۔
كما في التنزیل العزیز: {لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [البقرة: 188]
وفي صحيح البخاري: وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» اھ (3/ 92)
وفی الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه. ( كتاب الغصب ، ص: 617 ، ط: دار الكتب العلمية)
وفی ردالمحتار: (قوله: لا باخذ مال في المذهب)... إذ لا يجوز لاحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. (باب التعزير:مطلب في التعزير بأخذ المال،4/61 ط:سعید)