لے پالک کے احکام

لے پالک بچہ کو غیر والد کی طرف منسوب کرنا ؟

فتوی نمبر :
94478
| تاریخ :
2026-04-22
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / لے پالک کے احکام

لے پالک بچہ کو غیر والد کی طرف منسوب کرنا ؟

جناب مفتی صاحب! السلام علیکم، عرض ہے کہ آج سے تقریباً 25 سال پہلے، ہماری شادی کو چھ سات سال گزر چکے تھے ،مگر اولاد نہ تھی۔ اس دوران ایک فلاحی ادارے سے بچہ گود لینے کا ارادہ کیا اور اس سلسلے میں فارم لے کر اپنی والدہ کے پاس گیا۔ جب میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو وہ ناراض ہو گئیں اور کہنے لگى کہ بچہ باہر سے نہیں آئے گا، بلکہ میں (والدہ) خود گھر سے بچہ دوں گی۔ چنانچہ میں خاموش ہو گیا۔
بعد ازاں میں نے اپنے سرکاری ادارے میں اُس وقت کے افسر سے اس معاملے کا ذکر کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ خاموشی کے ساتھ بچہ گود لے لیں اور برتھ سرٹیفکیٹ اور دیگر کاغذات (مثلاً فارم کے خانے) میں اپنا نام بطور والد درج کروا دیں، تاکہ سرکاری ادارے میں آپ کے کاغذات چل سکیں؛ کیونکہ سرکاری مراعات ملازمین کے بچوں کو دی جاتی ہیں اور سرکاری رہائش سمیت دیگر سہولیات کے لیے نکاح نامہ وغیرہ بھی چیک کیا جاتا ہے۔ اگر نکاح نامے میں کسی قسم کی تبدیلی یا رد و بدل ہو تو تمام مراعات ختم ہو سکتی ہیں۔
اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ بچے کے نکاح نامے کے حوالے سے پیچیدگی پیدا ہو رہی ہے، جبکہ شناختی کارڈ (NIC) میں والد کے خانے میں میرا ہی نام درج ہے۔ اگر نکاح نامے میں کوئی رد و بدل کیا جائے تو تمام مراعات ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔لہٰذا گزارش ہے کہ اس صورتِ حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو كہ كسى غير كے بچے كى ولديت اپنى طرف منسوب كرنا، اس كو اپنا حقيقى بىٹا ظاہر كرنا ىا قانونى كاغذات وغيره مىں ولدىت كے خانہ مىں اپنا نام درج كروانا از روئے قرآن وحديث شرعاً ناجائز و حرام اور گناه كبيره ہے، لہذا سائل پر لازم ہے كہ قانونى كاغذات وغيره مىں حتى الإمكان ولدىت كے خانہ سے اپنا نام ہٹواكر سرپرست كے خانہ مىں اپنا نام درج كروائے اور دىگر مواقع پربھى اس بچے كى ولدىت اپنى طرف ہرگز منسوب نہ كرے، ورنہ سخت گناه گار ہوگا اور جو گناه سرزد ہوچكا ہے، اس پر بصدق دل توبہ واستغفاء اور آئنده كىلئے دوباره اس قسم كے ناجائز اور حرام كاموں سے مكمل اجتناب لازم ہے، جبكہ صرف مراعات ختم ہونے كے ڈر سے آگے مزيد اس طرح كے ناجائز كاموں كا تسلسل شرعاً جائز نہىں ، جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے.

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} (الأحزاب: 4، 5)
وفي الدر المختار: الإقرار بالولد الذي ليس منه حرام كالسكوت لاستلحاق نسب من ليس منه بحر. اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: الإقرار بالولد إلخ) قال عليه الصلاة والسلام حين نزلت آية الملاعنة «أيما امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولن يدخلها الله جنته (إلى قوله) وفي الصحيحين عنه عليه الصلاة والسلام «من ادعى أبا في الإسلام غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام» كذا في الفتح. اهـ (باب اللعان، ج: 3، ص: 493، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94478کی تصدیق کریں
0     117
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ایدھی سے لاوارث بچہ گودلے کر اس کی پرورش کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   لے پالک کے احکام 1
  • لے پالک بھتیجے کی ولدیت میں اپنانام لکھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   لے پالک کے احکام 0
  • لےپالک بچہ پرورش کرنے والی عورت کےلئے محرم ہوگایا نہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لے پالک کے احکام 0
  • کسی کا بچہ لے کر پالنا شادی کرانا اور جائیداد میں حصہ دلوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کی ولدیت میں کس کا نام لکھا جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 2
  • گود لئے بچے کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے ؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • زنا سے پیدا شدہ بچے کی لے پالک اولاد کے طور پر پروش کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 1
  • لے پالک اولاد کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹے کی وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 2
  • لے پالک بیٹے کو واپس لینے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بچہ کو ساری جائیداد دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹی کے نکاح میں حقیقی والد کا نام نہ لینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کی ولدیت میں کسی اور کا نام لکھوانا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • پرورش کرنے والے کا نام بطور ولدیت لکھنے کے لیے گواہی دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک لڑکی کے نکاح میں کس کی ولدیت لکھوائی جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • متبنی بچے کے والد کے خانہ میں کس کا نام لکھنا ضروری ہے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کے ولدیت میں مربی کا نام لکھوانا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • بھتیجے کو لے پالک بیٹے کے طور پر پالنے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • ربیبہ کو اپنا نام دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بچے کو اپنی طرف منسوب کرنا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • ولدیت کے خانے میں تایا ابو کا نام لکھنے کے بعد کاعذات میں تبدیلی کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کو محرم بنانے کا طریقہ

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹا-بیٹی کے احکام

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کے احکام کے متعلق

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
Related Topics متعلقه موضوعات