جناب مفتی صاحب! السلام علیکم، عرض ہے کہ آج سے تقریباً 25 سال پہلے، ہماری شادی کو چھ سات سال گزر چکے تھے ،مگر اولاد نہ تھی۔ اس دوران ایک فلاحی ادارے سے بچہ گود لینے کا ارادہ کیا اور اس سلسلے میں فارم لے کر اپنی والدہ کے پاس گیا۔ جب میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو وہ ناراض ہو گئیں اور کہنے لگى کہ بچہ باہر سے نہیں آئے گا، بلکہ میں (والدہ) خود گھر سے بچہ دوں گی۔ چنانچہ میں خاموش ہو گیا۔
بعد ازاں میں نے اپنے سرکاری ادارے میں اُس وقت کے افسر سے اس معاملے کا ذکر کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ خاموشی کے ساتھ بچہ گود لے لیں اور برتھ سرٹیفکیٹ اور دیگر کاغذات (مثلاً فارم کے خانے) میں اپنا نام بطور والد درج کروا دیں، تاکہ سرکاری ادارے میں آپ کے کاغذات چل سکیں؛ کیونکہ سرکاری مراعات ملازمین کے بچوں کو دی جاتی ہیں اور سرکاری رہائش سمیت دیگر سہولیات کے لیے نکاح نامہ وغیرہ بھی چیک کیا جاتا ہے۔ اگر نکاح نامے میں کسی قسم کی تبدیلی یا رد و بدل ہو تو تمام مراعات ختم ہو سکتی ہیں۔
اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ بچے کے نکاح نامے کے حوالے سے پیچیدگی پیدا ہو رہی ہے، جبکہ شناختی کارڈ (NIC) میں والد کے خانے میں میرا ہی نام درج ہے۔ اگر نکاح نامے میں کوئی رد و بدل کیا جائے تو تمام مراعات ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔لہٰذا گزارش ہے کہ اس صورتِ حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو كہ كسى غير كے بچے كى ولديت اپنى طرف منسوب كرنا، اس كو اپنا حقيقى بىٹا ظاہر كرنا ىا قانونى كاغذات وغيره مىں ولدىت كے خانہ مىں اپنا نام درج كروانا از روئے قرآن وحديث شرعاً ناجائز و حرام اور گناه كبيره ہے، لہذا سائل پر لازم ہے كہ قانونى كاغذات وغيره مىں حتى الإمكان ولدىت كے خانہ سے اپنا نام ہٹواكر سرپرست كے خانہ مىں اپنا نام درج كروائے اور دىگر مواقع پربھى اس بچے كى ولدىت اپنى طرف ہرگز منسوب نہ كرے، ورنہ سخت گناه گار ہوگا اور جو گناه سرزد ہوچكا ہے، اس پر بصدق دل توبہ واستغفاء اور آئنده كىلئے دوباره اس قسم كے ناجائز اور حرام كاموں سے مكمل اجتناب لازم ہے، جبكہ صرف مراعات ختم ہونے كے ڈر سے آگے مزيد اس طرح كے ناجائز كاموں كا تسلسل شرعاً جائز نہىں ، جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے.
كما قال الله تعالى: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} (الأحزاب: 4، 5)
وفي الدر المختار: الإقرار بالولد الذي ليس منه حرام كالسكوت لاستلحاق نسب من ليس منه بحر. اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: الإقرار بالولد إلخ) قال عليه الصلاة والسلام حين نزلت آية الملاعنة «أيما امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولن يدخلها الله جنته (إلى قوله) وفي الصحيحين عنه عليه الصلاة والسلام «من ادعى أبا في الإسلام غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام» كذا في الفتح. اهـ (باب اللعان، ج: 3، ص: 493، ط: إيج إيم سعيد)