اگر کوئی چیز سرکاری ادارے کے مال اور مختلف افراد سے رقم چوری کرکے خریدی ہو، اور اب اصل مالکان یا اداروں تک وہ رقم واپس پہنچانا ممکن نہ ہو، تو شرعی طور پر اس چیز اور اس میں شامل رقم کا کیا حکم ہے؟ کیا افراد کے حصے کی رقم ان کی طرف سے صدقہ کی جا سکتی ہے اور سرکاری حصہ بیت المال میں جمع کروایا جا سکتا ہے؟ اور ایسا کرنے کے بعد کیا وہ چیز انسان کے لیے حلال شمار ہوگی؟
واضح ہو کہ چوری کرنا ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے، اس لئے اس فعل کے مرتکب شخص پر لازم ہے کہ گزشتہ گناہ پر اللہ تعالیٰ کے حضور صدقِ دل سے توبہ واستٖغفار اور آئندہ اس کے ارتکاب سے مکمل اجتناب کرے۔ نیز جن اداروں اور افراد کی رقم اس طریقے سے حاصل کی گئی ہے، وہ رقم اس شخص کے ذمہ واجب الاداء ہے۔ لہٰذا اگر اس رقم کی حقیقی مقدار معلوم ہو تو اتنی ہی رقم، ورنہ محتاط اندازے کے مطابق رقم، متعلقہ افراد اور ادارے کو واپس کرنا ضروری ہے۔ محض صدقہ کردینے سے اصل حق دار کا حق ساقط نہ ہوگا۔
البتہ جن افراد یا ان کے ورثاء تک حتی الامکان تلاش و کوشش کے باوجود رسائی ممکن نہ ہو، تو ان کے حق کے بقدر رقم ان کی طرف سے صدقہ کرنی چاہیے۔تاہم سرکاری رقم متعلقہ سرکاری ادارے کو واپس کرنا ضروری ہے، اور اگر کسی وجہ سے متعلقہ ادارے تک یہ رقم پہنچانا ممکن نہ ہو تو اس کو بیت المال میں جمع کرنا ضروری ہوگا۔جس کے بعد، اس رقم سے خریدی ہوئی اشیاء کا استعمال بلاشبہ جائز اور درست ہوگا۔
کما فی سنن الترمذی:عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ اھ (باب ماجاء فی العاریة، ج2 ، ص558، ط: شرکة مکتبة ومطبعة مصطفی البابی الحلبی، مصر)
وفی كتاب موسوعة القواعد الفقهية: تحت ھذ الحدیث: ومفاد الحديث: أن من أخذ شيئاً بغير حق كان ضامناً له، ولا تبرأ ذمته منه حتى يرده ويؤديه بعينه أو بضمانه إلى صاحبه.
ثالثاً: من أمثلة هذه القاعدة ومسائلها. وجوب ضمان المسروق على السارق سواء بقي المسروق أو تلف، فعلى السارق ضمان قيمته إن كان تالفاً. ( مکتبة شاملة: ج 7، ص 752)
و فی الدر المختار مع رد المحتار: ویبرأ بردہا ولو بغیر علم المالک۔ في البزازیة: غصب دراہم انسان من کیسہ، ثم ردہا فیہ بلا علمہ، بریء، وکذا لو سلم الیہ بجہة أخری کہبة أو ایداع أو شراء۔ (کتاب الغصب، ج6، ص 182،ط: دار الفکر، بیروت)