اسلام علیکم
کیا فرماتے علما کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایزی پیسہ شاپ والے جو رقم نکلوانے یا بیجھنے پر جو 10 یا 20 روپے کاٹتے ہیں رقم کے حساب سے تو کیا یہ رقم ان کے لیے جائز ہے اور اگر جائز تو کس دلیل کی بنیاد پر اس مسلہ کی مکمل رہنمائی فرمائیں
واضح ہو کہ موبی کیش یا ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے ڈالنے والے افراد (ریٹیلر) کمپنی کی طرف سے انکے مقرر کردہ نمائندے اور وکیل کی حیثیت رکھتے ہیں، جس پر انہیں کمپنی معاوضہ بصورت کمیشن دیتی ہے ، اور انہیں کسٹمر سے کمپنی کی طرف سے مقرر کردہ رقم سے زائد رقم وصول کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی لہذا انکا کسٹمر سے ایزی پیسہ یا موبی کیش اکاؤنٹ میں رقم ڈالنے یا نکالنے پر کمپنی کی طرف سے طے شدہ رقم سے زائد رقم وصول کر ناشر عا درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔(ازتبویب67729)
کما في رد المحتار:جملة الأمر أن كل ما قيد به الموكل إن مفيدا من كل وجه يلزم رعايته أكده بالنفي أو لا كبعه بخيار فباعه بدونه. نظيره الوديعة إن مفيداك " احفظ في هذه الدار " تتعين، وإن لم يقل لا تحفظ إلا في هذه الدار لتفاوت الحرز وإن لا يقد أصلا لا يجب مراعاته كبعه بالنسيئة فباعه بنقد يجوز. وإن مفيدا من وجه يجب مراعاته إن أكده بالنفي وإن لم يؤكده به لا يجب. مثاله لا تبعه إلا في سوق كذا يجب رعايته بخلاف قوله بعه في سوق كذا وكذا في الوديعة إذا قال لاتحفظ الا فی ھذاالبیت یلزم الرعایة اھ (5 /523)