اگر کوئی شخص اپنی جاب کے دوران کان میں ائیر بوڈز لگا کر گانے سنے تو کیا اس کی آمدنی حرام ہوگی؟
واضح ہو کہ ”گانا“ گانا یا سننا دونوں شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہیں جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں ملازم کا دوران ڈیوٹی کانوں میں ائیر بوڈز لگا کر گانے سننا شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے جس پر بصدق دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس گناہ سے مکمل اجتناب لازم ہے، تاہم اگر ملازم مفوضہ امور وقت مقررہ پر سرانجام دیتا ہو، گانے سننے کی وجہ سے کام میں خلل نہ پڑتا ہو تو گانے سننے کی وجہ سے اس کی آمدنی حرام نہیں ہوگی۔
ففي السنن الكبرى للبيهقي: «عن ابن مسعود، قال: " الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع، والذكر ينبت الإيمان في القلب كما ينبت الماء الزرع "». (10/ 377 ط العلمية)
وفي الدر المختار: «وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل». (6/ 70)
وفي حاشية ابن عابدين: «[مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة] (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى.» (6/ 70)