میں ایک کمپنی HBZ Services Private Limited میں بطور سافٹ ویئر انجینئر کام کرتا ہوں، جو کہ Habib Bank AG Zurich کی ایک سبسڈری (subsidiary) کمپنی ہے۔
HBZ Services Private Limited ان تمام بینکس کو آئی ٹی سروسز فراہم کرتی ہے جو Habib Bank AG Zurich کے تحت کام کرتے ہیں۔
یہ کمپنی دبئی میں رجسٹرڈ ایک علیحدہ سافٹ ویئر کمپنی ہے۔ یہ خود سود پر قرض نہیں دیتی۔
HBZ Services Private Limited اپنی آمدنی خود پیدا کرتی ہے، اپنا بجٹ خود بناتی ہے، اور یہ کوئی مالیاتی (financial) کمپنی نہیں بلکہ ایک آزاد سافٹ ویئر ہاؤس ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ کسی بینک کا براہِ راست ڈیپارٹمنٹ نہیں ہے بلکہ ایک سبسڈری سافٹ ویئر کمپنی ہے۔
یہ اپنی سسٹر کمپنیوں جیسے Habib Metro Bank وغیرہ کو آئی ٹی سروسز دیتی ہے، جن میں کمپلائنس، گورننس، ٹیسٹنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، سائبر سیکیورٹی اور ڈیو اوپس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سسٹر کمپنیاں HBZ Services کو اس کی خدمات کے بدلے ادائیگی کرتی ہیں، اور پھر HBZ Services انہی آمدنیوں سے اپنے ملازمین کو تنخواہیں دیتی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کمپنی میں کام کرنا میرے لیے جائز (حلال) ہے یا نہیں؟
اور کیا اس کمپنی سے حاصل ہونے والی میری تنخواہ حلال ہے؟
سوال میں مذکور کمپنی صرف آئی ٹی/سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، سائبر سیکیورٹی، کمپلائنس اور دیگر تکنیکی خدمات فراہم کرتی ہواور اس کا براہِ راست تعلق سودی معاملات کی انجام دہی، معاونت یا سودی لین دین کے انتظام سے نہ ہو، تو ایسی کمپنی میں ملازمت کی گنجائش ہے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ شرعاً جائز (حلال) ہوگی۔
کمافی الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار»: (و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لان المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره، وقيل يكره لاعانته على المعصية، ونثل المصنف عن السراج: والمشكلات أن قوله: ممن أي من كافر، أما بيعه من المسلم فيكره، ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما.زاد القهستاني معزيا للخانية أنه يكره بالاتفاق» (ص661)
وفی حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي»تحت (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل» (6/ 391)
وفی فقہ البیوع للشیخ تقی العثمانی : وقد اشتھر علی الألسُن أن حکم التعامل مع من کان مالُہ مخلوطا بالحلال والحرام أنہ اؔن کان الحلال فیھا أکثر،جاز التعامل معہ بقبول ھدیتہ وتعاقد البیع والشراء معہ،وبذٰلک صدرت بعض الفتاوی،ولکن مایتحقق بعد سبر کلام الفقہاء الحنفیۃ فی ھذا الموضوع أن اعتبار الغلبۃ انما ھو فیما اذا کان الحلال متمیزا عن الحرام عند صاحبہ،ولا یعلم المتعامل معہ أن مایعطیہ من الحلال أو من الحرام ،فحینئذ تعتبر الغلبۃ،بمعنی انہ ان کان اکثر مالہ حلالا،یفرض أن مایعطیہ من الحلال،والعکس بالعکس،کما قدمنا نصوصہ فی الصورۃ الاولی.أما اذا کان مخلوطا بالحرام دون تمییز أحدھما بالآخر،فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ، بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال، سواء اکان الحلال قلیلا ام کثیرا.(1031/2)