کیا فرماتے هیں مفتیان کرام اس مسلے کے بارے میں که ز ید نے پندره هزار گیم سے جوا لیا پھر اپںنے حلال کے کمائی سے اسکو صدقه کردیا غریبوں پر بغیر ثواب کی نیت سے تو کیا اس طرح جائز هے
واضح ہو کہ جوئے سے حاصل شدہ رقم کو اس کے اصل مالک کو لوٹانا، اگر وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو لوٹانا لازم ہے۔ اور اگر اصل مالک اور اس کے وارثوں تک رسائی ممکن نہ ہو تو اصل مالکان کی طرف سے اس رقم کو صدقہ کرنا لازم ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر زید کو اصل مالک (جس سے گیم جیت کر رقم لی ہے)معلوم ہے تو اس کو لوٹانا لازم ہے، صدقہ کرنے سے وہ بری الذمہ نہیں ہو گا۔ البتہ اگر اس تک کسی بھی طریقے سے رسائی ممکن نہ ہو، تو زید کا جوئے کی رقم خرچ ہونے کی وجہ سے اپنی رقم سے بغیر نیتِ ثواب صدقہ کرنے کا عمل بھی شرعاً درست ہے۔ بہرصورت زید پر اس کے ساتھ ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ جوا نہ کھیلنے کا عزم کرنا بھی لازم ہے۔
قال الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ الآية (المائدة،الآیت:۹۰)
و في رد المحتار :وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ۔(فصل في البيع،ج:6،ص:385،ط:سعید)