مرد بیماری اور مردانہ کمزوری کی وجہ سے اپنی بیوی کی ضرورت پوری نہ کر سکتا ہو، اسی حالت میں ایک سال گزر جائے ، جبکہ وہ مباشرت کے بغیر اپنی بیوی کو انگلی کے ذریعے تسکین دیتا رہا ہو، تو کیا اس طرح نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟
جماع نہ کرنے سے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا، تاہم مذکور مرد کو چاہیےکہ کسی ماہر معالج کے ذریعے اپنا علاج کرائے، اور اگر علاج ممکن نہ ہو ، اور بیوی مذکور مرض کی وجہ سے دوسری جگہ نکاح کی خواہاں ہو، تو اس کو طلاق دے کر آزاد کر دے، تاکہ وہ حسبِ منشاء کسی دوسری جگہ نکاح کرے ،ہاں اگر بیوی اسی حالت میں رہنے پر رضا مند ہو، تو شرعاً اس میں کچھ حرج نہیں ۔