السلام علیکم !جناب مفتی صاحب!
بندہ ایک سرکاری اسکول میں استاد ہے ، بندہ اپنا پیرڈ مکمل لیتا ہے، اسکول بھی ایک قبائلی علاقے میں تقریباً واقع ہے ، لیکن اسکول کی چھٹی اپنے وقت سے تقریباً گھنٹہ سوا گھنٹہ پہلےہوتی ہے ، سارے اساتذہ اوربچے چلے جاتے ہیں ، بندہ اسکول میں آخری رہ جاتا ہے ، بندہ نے انچارج کو کہا کہ اسکول کی چھٹی ذرا تاخیر سے کی جائے اس نے کہا ٹھیک ہے جس ٹائم آپ کی مرضی ہے چھٹی کریں ، لیکن وہ سب سے پہلے چلے جاتے ہیں، تو بقیہ سٹاف بھی پہلے چلے جاتا ہے ، حتی کہ چوکیدار بھی بار بار کہتا ہے کہ ،سب چلے گئے چھٹی کرو ، اور بچوں کو بھی سنبھالنا مشکل ہو تا ہے ، بندہ کو بقیہ وقت اسکول میں اکیلا گزارنا مشکل ہوجاتا ہے ، کیونکہ اسکول میں اکیلا رہتا ہوں اور ڈر بھی لگتا ہے (چوروں وغیرہ سے ) بندہ جب اسکول سے نکلتا ہے تو وقت سے پہلے نکلنے پر دل مطمئن نہیں ہوتا ہے ، برائے مہربانی اس کی تنخواہ کا کیا حکم ہے ؟ اور اگر حرام ہے ،تو اس کی تلافی کا کیا طریقہ ہے ؟
واضح ہو کہ گورنمنٹ کی طرف سے ملازم کیلئےصرف مقررہ وقت متعلقہ جگہ پر گزارنا کافی نہیں ہوتا بلکہ مقررہ وقت میں متعلقہ امور اور ذمہ داریوں کی انجام دہی بھی مقصود ہوتی ہے ، ورنہ اس میں خیانت کی صورت میں کوتاہی کے بقدر تنخواہ کی وصولی درست نہ ہوگی ، لہذا سوال میں مذکور اسکول انچارج کیلئے گورنمنٹ کی طرف سے مقررہ وقت سے پہلے اسکول بند کرانے کا معمول بنانا گورنمنٹ کے ضابطے کی خلاف ورزی اور خیانت کے ساتھ ساتھ طلباء کی حق تلفی بھی ہے جس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو رہا ہے ، اس لئے اس پر لازم ہے کہ محکمہ تعلیم کی طرف سے مقررہ وقت کی پابندی کرتے ہوئے طلباء کو ان کا پورا حق دینے کا اہتمام کرے ، تاہم اگر سمجھانے کے باوجود اسکول انچارج مقررہ وقت کی پابندی کرنے کے بجائے طلباء کو چھٹی دےکر پورا سٹاف چلا جاتا ہو ، تو سائل کے لئے محض وقت گزارنے کی خاطر اسکول میں بیٹھ کر انتظار کرنا شرعاً لازم نہیں اور اس کی وجہ سے اس کی تنخواہ پر بھی کوئی فرق نہیں پڑیگا، البتہ اگر محکمہ تعلیم کے مجاز افراد کی طرف سے علاقہ کی نوعیت اور صورت حال کو دیکھ کر اس ٹائم میں تخفیف کی گئی ہو، تو ایسی صورت میں اسکول انتظامیہ سمیت سائل کے لئے رعایت کے مطابق وقت سے پہلے چھٹی کرنے اور مکمل تنخواہ لینے کی اجازت ہوگی ۔
کما فی رد المحتار: تحت ( قولہ اذا فرغ و سلمہ ) اعلم (الی قولہ ) ان وقعت الاجارۃ علی المدۃ کما فی الاجارۃ الدار و الارض او قطع المسافۃکما فی الدابۃ وجب بحصۃ ما استوفیٰ لو لہ اجرۃ معلومۃ بلامشقۃ (الی قولہ ) و ان وقعت علی العمل کا لخیاطۃ و القصارۃ فلا یجب الاجرۃ مالم یفرغ منہ فیستحق الکل لانّ العمل فی البعض غیر منتفع بہ ، و کذا اذا عمل فی بیت المستاجر و لم یفرغ لایستحق شیئا من الاجرۃ علی ما ذکرہ صاحب الھدایۃ و التجرید الخ (ج 6 ص 14 کتاب الاجارۃ ط سعید )۔
و فی الھدایۃ : و المنافع تارۃً تصیر معلومۃً بالمدۃ ، کااستئجار الدور للسکنیٰ و الارضین للزراعۃ ، فیصح العقد علی مدّۃ معلومۃ ایَّ مدۃ کانت ، لانَّ المدۃ اذا کانت معلومۃً کان قدر المنفعۃ فیھا معلوماً اذا کانت المنفعۃُ لاتتفاوت ، و قولہ : ایَّ مدۃ کانت ، اشارۃ الیٰ انہ یجوزطالت المدتُ او قصرت ، لکونھا معلومۃ ، و لتحقق الحاجۃ الیھا الخ (ج 3 ص416 کتاب الاجارۃ ط بشریٰ )۔
و فی شرح المجلۃ: الاجیر الخاص یستحق الاجرۃ اذا کان فی مدۃ الاجارۃ حاضراً للعمل و لا یشترط لہ بالفعل ، لکن لیس لہ ان یمتنع عن العمل و اذا امتنع لایستحق الاجرۃ الخ(ج 1ص 487کتاب الاجارۃ ط رشیدیہ ) ۔