السلام علیکم
محترم مفتی صاحب،
براہِ کرم اس فتویٰ کو اولین ترجیح پر دیکھیں۔
سوال: میں سنی دیوبندی ہوں اور سپاہِ صحابہ سے وابستہ ہوں۔ میرے سسرال والے شیعہ ہیں۔ میرا گھر ان سے 200 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ میری بیوی شیعہ ہے۔ جس گھر میں میں رہتا ہوں وہ میرے سسرال والوں نے مجھے دیا ہے۔ میں نے اپنی بیوی کا عقیدہ بدلنے کی کوشش کی لیکن میں اس میں کامیاب نہیں ہوا۔ وہ میرے سرپرست ہیں، میں کیا کروں؟ میں ان کے ساتھ کھانا کھاتا ہوں اور ان سے میل جول رکھتا ہوں۔ کیا مجھے اسی طرح جاری رکھنا چاہیے یا کیا کرنا چاہیے؟
مذکور شیعہ خاتون اگر کفریہ عقائد کی حامل نہ ہو تو اس صورت میں اگر چہ سائل کے اس کے ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے کی گنجائش ہے ، مگر پیدا ہونے والی اولاد پر برے اثرات پڑنے اور گھریلو ماحول خراب ہونے کا اندیشہ یقینی ہے جیسا کہ خود سائل کا بھی تجربہ ہو چکا ہوگا ، اس لئے اگر سائل کی بیوی اپنی اصلاح کے لیے آمادہ نہ ہوا اور ابھی تک ان کی کوئی اولاد بھی نہ ہوئی ہو تو اس کے حق میں ایسی بیوی سے علیحدگی زیادہ بہتر ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع. اھ. (4/ 237)
وفيه ايضاً : اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع وتخطئتهم وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا، لكن يضلل إلخ. (4/ 237) والله اعلم بالصواب