اگر شوہر اپنی بیوی کی جنسی خواہشات کو محسوس نہ کرے، تو بیوی کو کیا کرنا چاہیئے؟ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور مہینے میں ایک مرتبہ بھی اسے اپنی بیوی کی ضروریات کی کوئی پرواہ نہیں، بیوی کی خواہشات مرد سے زیادہ ہوتی ہیں۔
اگر چہ مہینہ میں ایک بار ہمبستر ہونے سے شوہر اداء حق سے بری ہو جاتا ہے اور اللہ کے ہاں اسے گناہ بھی نہیں ہوگا ،مگر اسے چاہیئے کہ بیوی کی خواہش نفسانی کا بھی لحاظ رکھے، تاکہ وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو ، جبکہ بیوی کو بھی چاہیئے کہ زیب و زینت کا اہتمام کرے اور ایسی کیفیت اختیار کرے، جس سے شوہر کا دل اسکی طرف مائل ہو۔
في الدر المختار: ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة احيانا ولا يبلغ الايلاء إلا برضاهااھ (3/ 201)