سوال(1)شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟اگر بیوی شوہر کی جائز باتوں پر بحث وتکرار کرتی ہو،تو ایسی صورت میں شوہر کیا کرے؟جبکہ شوہر جب بیوی کو سمجھائے تو بیوی یہ طعنہ دے کہ آپ مجھے ہمیشہ اپنے مطلب کے لئے کام کرواتے ہیں،آپ کو میرا کوئی احساس نہیں،وغیرہ وغیرہ
(2) میری شادی کو دو سال ہوگئے ہیں،لیکن ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہوئی،میری رپورٹ ٹھیک ہے،لیکن بیوی کے ہارمونز ٹھیک نہیں ہیں،جس کی وجہ سےاولاد نہیں ہو پا رہی،جبکہ ہر ممکنہ علاج کروا لیا گیا ہے،ایسی صورت میں میرے لئے شادی کا کیا حکم ہے؟ میں صاحبِ حیثیت ہوں اور پہلی بیوی کو بھی انصاف اور مکمل تحفظ کے ساتھ اپنے ساتھ ہی رکھنا چاہتا ہوں۔
(1)بیوی کے ذمہ شوہر کے بہت سے حقوق ہیں،مثلاً:
(الف) ہر امر میں اس کی اطاعت کرنا،بشرطیکہ معصیت نہ ہو۔
(ب) اس کی استطاعت سے زیادہ نان ونفقہ طلب نہ کرنا-
(ج) شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں نہ آنے دینا -
(د) اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلنا-
(ہ) اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے کسی کو نہ دینا -
(و) نفل نماز اور نفل روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھنا-
(ز) اگر صحبت کے لئے بلائے تو شرعی مانع کے بغیر اس سے انکار نہ کرنا-
(ح) اپنے شوہر کو افلاس یا بدصورتی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھنا۔
(ط) اس کے سامنے زبان درازی نہ کرنا وغیرہ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ اپنے شوہر کی جائز باتوں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرے،اس میں حتیٰ الامکان اپنی طرف سے کمی کوتاہی نہ ہونے دے،تاہم سائل پر بھی لازم ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے،بلاوجہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس کو تنگ نہ کرے،اس کے بھی آرام وراحت کا پورا خیال رکھے۔
(2) سائل اگر واقعۃً صاحبِ حیثیت ہے اور اس کو پوری طرح یقین یا غالبِ گمان ہے کہ شادی کےبعد دونوں بیویوں کے شرعی حقوق اچھی طرح ادا کرسکے گا اور دونوں میں برابری کرسکے گا تو ایسی صورت میں سائل شرعاً دوسری شادی بھی کرسکتا ہے،اس میں کوئی حرج نہیں،البتہ آج کل کی قانونی پریشانیوں سے بچنے کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لے کر ان کی رضامندی سے دوسری شادی کرلے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
کمافی بدائع الصنائع: ومنها المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى: {وعاشروهن بالمعروف} [النساء: 19] قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: - صلى الله عليه وسلم - «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي» ، وقيل المعاشرة بالمعروف هي أن يعاملها بما لو فعل بك مثل ذلك لم تنكره بل تعرفه، وتقبله وترضى به، وكذلك من جانبها هي مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجها بالإحسان باللسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج، وقيل في، قوله تعالى {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف} [البقرة: 228] أن الذي عليهن من حيث الفضل والإحسان هو أن يحسن إلى أزواجهن بالبر باللسان، والقول بالمعروف، والله عز وجل أعلم اھ(2/334)۔
وفی البحر الرائق: وقال تعالى: {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم} [النساء: 3]
وفي فتح القدير فاستفدنا أن حل الأربع مقيد بعدم خوف عدم العدل وثبوت المنع عن أكثر من واحدة عند خوفه فعلم إيجابه عند تعددهن اهـ (3/234)۔
وفی الموسوعة الفقھیة الکویتیة: ثم ان وجوب طاعة الزوج مقید بأن لایکون فی معصیة،فلایجوز للمرأة أن تطیعھا فی ما لایحل اھ(30/123)۔