میری ساس کو میرا رات کے وقت خاوند کے ساتھ جاگنے پر اعتراض ہے، وہ کہتی ہیں کہ میرے بیٹے کو نہ جگایا کرو،ان کو شرم نہیں آتی ایک بیوی پر نظر رکھتے ہوئے ، اس کے پرائیوٹ ٹائم پر نظر رکھتی ہیں، جواب چاہیئے ،رمضان میں بھی انہوں نے بہت تنگ کیا ہے،ٹائم سے پہلے دروازہ بجا بجا کر اٹھانا کون سی ماں کرتی ہے ؟ خاوند کہتے ہیں، میری امی ہیں، ان کا حق ہے , یہ کیسا حق ہے، جو بیوی کو اتنا ذلیل کرتا ہے؟ دینِ اسلام میں اس کا کیا حکم ہے؟میں بہت پریشان ہوں،ان کی امی کی وجہ سے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی ساس کا مذکور رویہ ظالمانہ اور ایذاء رسانی پر مبنی ہے، سائلہ کے خاوند پر لازم ہے کہ اپنی والدہ کی حوصلہ افزائی کے بجائے ادب واحترام کے ساتھ اپنی والدہ کو ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کرے اور بتائے کہ مجھے بھی اس رویّہ سے تکلیف ہوتی ہے، اس کے باوجود اگر وہ اپنا رویّہ نہیں بدلتی تو خاوند کی خاطر سائلہ تھوڑی بہت تکالیف برداشت کرلیا کرے،پھر بھی اگر برداشت کی حد سے معاملہ آگے چلا جائے تو سائلہ کو حق ہے کہ الگ رہائش کا مطالبہ کرے،جہاں دوسرے لوگوں کا عمل دخل نہ ہو۔
کمافی احکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى وعاشروهن بالمعروف أمر للأزواج بعشرة نسائهم بالمعروف ومن المعروف أن يوفيها حقها من المهر والنفقة والقسم وترك أذاها بالكلام الغليظ والإعراض عنها والميل إلى غيرها وترك العبوس والقطوب في وجهها بغير ذنب جرى مجرى ذلك اھ(3/47)۔
وفی مشکاة المصابیح: عن معاویة بن جاھمة ان جاھمة جاء الیٰ النبی ﷺ فقال:یارسول اللہ ﷺ اردت ان اغزو وقد جئت استشیرك فقال:ھل لك من ام قال:نعم،قال: الزمھا فان الجنة عند رجلھا (2/421)
وفی سنن ابی داؤد: حدثنا بھز بن حکیم حدثنا ابی عن ھدی قال:قلت یارسول اللہ نساؤنا ماناتی منھن ومانذر قال:ائت حرثك انی شئت واطعمھا اذا طعمت واکسھا اذا اکتسیت ولاتقبح الوجه ولاتضرب اھ(1/299)۔
وفی الدر المختار: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) الخ
وفی الشامیة:(قوله خال عن أهله إلخ) ؛ لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛ لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار ذلك؛ لأنها رضيت بانتقاص حقها هداية اھ(3/600)۔