السلام علیکم !میرے ایک عزیز امریکا میں رہتے ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی، انہوں نے ایک لڑکا پیدائش کے دن سے ہی گود لیا ہوا ہے وہ چاہتے ہیں کہ انکی وفات کے بعد ان کالے پالک بیٹا پریشان نہ ہو، کیونکہ شرعی طور پر لے پالک بچے کا وراثت میں حصہ نہیں، کیا وہ اپنی زندگی میں بچے کے نام اپنی میراث کر سکتے ہیں ؟ کیا وہ لے پالک بیٹے کیلئے میراث کی وصیت کرسکتے ہیں؟ کیا ان کی اس وصیت کو انکی موت کے بعد ان کے بہن بھائی چیلنج کر کے بچے کو اس کے مال و متاع سے محروم کر سکتے ہیں؟ بہتر طریقہ کونسا ہو سکتا ہے اور کتنے فیصد کی وصیت کی جا سکتی ہے؟ بچے کی اس وقت عمر ۱۲ سال کی ہے۔ جزاک اللہ
سائل کا مذکور لے پالک کے مستقبل کے سلسلہ میں مذکور جذبہ واقعۃً قابل قدر ہے، لیکن سارا کچھ اس کو دے دینا اور اپنے حقیقی ورثاء کو بالکل محروم کر دینا بھی گناہ کی بات ہے اس سے احتراز چاہیے۔
سائل کو چاہیے کہ دو صورتوں میں سے ایک صورت پر عمل کرے یا تو اپنی زندگی میں مناسب مالیت کی جائیداد اس کو دیکر باضابطہ مالکانہ قبضہ دیدے، محض کاغذات میں نام کر دینا مالک بننے کے لیے کافی نہیں یا گواہوں کے روبرو وصیت کرلے میرے مرنے کے بعد ایک تہائی (۳/۱) یا آدھی تہائی (۶/۱) ترکہ مذکور لے پالک کو دیا جائے اور اس کو تحریر بھی کرلے۔ اس طرح کرنے سے مذکور لے پالک اور حقیقی ورثاء سب کا لحاظ ہو جائے گا۔
کما فی در المختار: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته)۔
وفیہ ایضاً: و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول)(الی قولہ) (و تتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل۔(۵/۶۵۰)
وکما فی الھندیۃ: رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان.
و فیہ ایضًا: الموهوب له إن كان من أهل القبض فحق القبض إليه، وإن كان الموهوب له صغيرا أو مجنونا فحق القبض إلى وليه، ووليه أبوه أو وصي أبيه ثم جده ثم وصي وصيه۔ (۵/۳۹۲) واللہ اعلم بالصواب