السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ والد اپنی زندگی میں صرف بطورِ مشورہ اور اپنے خیال سے یہ کہتے تھے کہ لوگوں کے لئے میٹھے پانی کا بندوبست کروانا ہے اور اس وقت ہمارے گھر میں ایک موٹر میٹھے پانی والی چل بھی رہی تھی , مگر جب خراب ہوئی تو اسی طرح بند پڑھی رہی , اب میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے تو کیا اب اس موٹر کو ٹھیک کروا کر لوگوں کے پانی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں ؟ یا اس کو میت کے ترکہ میں شامل کر کے تقسیم کیا جائے گا راہنمائی فرما دیں۔
واضح ہو کہ ہرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتاہے ، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتا ہے ،لہذا سائل کے والد مرحوم نے اپنے زندگی میں اپنے بیٹوں کو مذکور زمین اگر باضابطہ حد بندی اور اسے بیٹوں کے درمیان تقسیم کرکے ہر بیٹے کو ا سکا حصہ مالکانہ قبضہ کیساتھ حوالہ کردیا تھا تو شرعاً ہر بیٹا اپنے اپنے حصے کا مالک بن چکا تھا ، چنانچہ والدِ مرحوم کی وفات کے بعد بیٹوں کو ملنے والوں حصوں میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں ، اورنہ ہی ان کے ذمہ دوبارہ وہ زمینیں تقسیم کرنا لازم اورضروری ہے البتہ اگر سارے بھائی باہمی رضامندی سے ان زمینوں کو ازسرِنو نتقسیم کرنا چاہیں تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں مگر ایسا کرنا ان کے ذمہ لازم اورضروری نہیں ۔
جبکہ سائل کے والد مرحوم نے اگر چہ زندگی میں لوگوں کے لئے میٹھے پانی کے انتظام کی خواہش کا اظہار کیا تھا ، لیکن اگر مرحوم نے باقاعدہ وصیت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں مرحوم کے ورثاء کے ذمہ موٹر وغیرہ کے ذریعے لوگوں کیلئے میٹھے پانی کا انتظام لازم نہ ہوگا ، بلکہ مذکور موٹر بھی دیگر ترکے کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کی جائے گی ، البتہ اگر مرحوم کے تمام ورثاء عاقل و بالغ ہوں اور والدِمرحوم کے ایصالِ ثواب کی غرض سے مذکور موٹر کے ذریعے لوگوں کیلئے میٹھے پانی کے انتظام پر رضامندہوں تو ایسا کرنا بھی بلاشبہ جائز , درست اور والدِ مرحوم کے ایصال ثواب کاایک بہترین ذریعہ ہے ۔
کما فی الدر المختار : (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم و لو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب و في الصيرفية عن العتابي و قيل: يجوز لشريكه ، و هو المختار (فإن قسمه و سلمه صح) لزوال المانع(5/692)۔