محترم جناب مفتی صاحب !السلام علیکم ورحمۃ الله و بركاتہ!
بعد از سلامِ مسنون مؤدبانہ گزارش ہے کہ ایک اہم استفتاء پیشِ خدمت ہے، براہِ کرم را ہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
ہمارے والد صاحب کپڑا مارکیٹ میں کافی عرصہ سےکاروبار کرتے تھے ،اور ان کی ذاتی ملکیت میں ایک دوکان تھی، اور ٹھٹائی کمپاؤنڈ میں ایک فلیٹ ہمارے والد نے پگڑی پر حاصل کیا تھا،اس میں ہماری رہائش تھی ،اور پھر کچھ عرصہ بعد وہ بلڈنگ فروخت ہونے لگی، تو ہماری والدہ نے اس طرح سے اُسے خریدا کہ ساڑھے چھ لاکھ خود ہماری والدہ نے اپنی رقم جو ہماری نانی نے ہدیۃً دی تھی، اور ڈھائی لاکھ والد صاحب نے معاونت کے طور پر ادا کر دی، جو 9 لاکھ کل رقم بنتی ہے ،اور اس بلڈنگ کی آنرشپ والدہ کے نام منتقل ہو گئی، چونکہ بلڈنگ میں تین فلیٹ اور دو دوکانیں تھیں ،جن میں سے ایک فلیٹ تو ہمارے والد صاحب نے پہلے ہی پگڑی پر خریدا تھا ،اور اسی میں ہماری رہائش تھی ،اور ہمارے سے اوپر والی منزل کا فلیٹ ہم بھائیوں نے تعاون کے طور پر ساڑھے چار لاکھ رقم دیکر کرایہ داروں سے خالی کروایا ،اور پھر کچھ عرصہ بعد یہ بلڈنگ تین کروڑ بیس لاکھ میں فروخت کر دی گئی ،اور فروختگی کی ایڈوانس کی رقم سے کرایہ داروں سے باقی ایک فلیٹ اور ایک دوکان خالی کروائی، اور دوسری دوکان قرضہ لیکر خالی کروائی، جو بعد میں ادا کیا گیا۔ جب بلڈنگ کی فروخت کی رقم آئی، تو ہمارے والد کی دوکان پر موجود واجب الادا قرض کے بیس لاکھ ادا کیے گئے ،اور باقی رقم سے ناظم آباد میں ایک پلاٹ خریدا گیا، پلاٹ ہمارے والد کے نام سے خریدا گیا، بعد میں اپنی زندگی میں ہی اس مرض الوفات میں والد نے والدہ کے نام کر دیا تھا ، ہمارے والد نے اپنی زندگی میں اس بات کی صراحت فرمادی تھی کہ دوکان میری بچیوں کی ہے، ہم سب ورثاء اس بات پر بخوشی راضی ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے والد پر 22 لاکھ روپیہ قرض تھا، ہم تینوں بھائیوں نے اپنے والد کے انتقال پر ان کے قرض خواہوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ اپنے والد کے قرضہ کو ہم ادا کریں گے ۔ ہمارے والد کو قرض کے بوجھ سے سبکدوش کر دیا جائے۔ براہِ کرم آپ حضرات حکمِ شرعی واضح فرما دیجیے کہ اس پوری تفصیل کی رو سے ہمارے والد کا ترکہ کیا کچھ ہے ،اور وہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہو گا ؟ ورثاء میں ہم تین بھائی ، دو بہنیں اور ہماری والدہ ہیں، جبکہ مرحوم کے والدین مرحوم سے پہلے انتقال کر چکے تھے۔
نوٹ : واضح رہے کہ سوال میں مذکوربلڈنگ خرید کر اسکی آنر شپ والدہ کے نام منتقل ہونے کے بعد رہائشی فلیٹ کی ملکیت والد صاحب کو دینے کی کوئی صراحت نہیں کی گئی تھی، جبکہ والدہ نے بیس لاکھ روپے والد صاحب کو قرض اتارنے کیلئے تعاون کے طور پر دیے تھے۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد کا ترکہ صرف وہی دوکان ہے، جس کی انہوں نے بیٹیوں کے لئے وصیت کر رکھی ہے،اور یہ وصیت وارث کے حق میں ہونے کی وجہ سے معتبر نہیں ،الا یہ کہ تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں تو مرحوم کی وصیت کے موافق عمل کر کے یہ دوکان بیٹیوں کو دے سکتے ہیں، جبکہ مذکور بلڈنگ اور اس سے حاصل ہونے والی رقم اور پلاٹ بیوہ کی مملوک ہیں، وہ اپنی مرضی سے ان میں جو چاہے تصرف کر سکتی ہے ،کسی دوسرے کو اس میں حصہ داری کا دعویٰ اور تقسیمِ ترکہ کا مطالبہ درست نہیں۔
ففي الفتاوى الهندية: ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة اھ (6/ 90)۔
وفيها ايضاً: وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري اھ (3/ 3)۔
وفي شرح المجلة: كل يتصرف في ملكه كيف شاء اھ (۴/ ۱۳۲)۔