بندہ کے والد محترم محمد رفیق شاکر نے تقریباً ایک ایکڑ اور پانچ کنال زرعی زمین کی قیمت طے کر کے محمد عثمان کو انتقال دے دیا اور ایک عدد تعمیر شدہ مکان کی قیمت طے کر کے اپنی زندگی میں محمد عثمان کو قبضہ بھی دے دیا، اور ساتھ ہی 15,00,000 نقدی کی صورت میں رقم بھی دے دی، فریق اول محمد رفیق شاکر نے فریق ثانی محمد عثمان کے ساتھ اقرار نامہ اسٹام پیپر پر تحریر فرمایا کہ میری زرعی زمین ، مکان اور نقدی -15,00,000 لاکھ روپے فریق ثانی محمد عثمان کے پاس بطورِ امانت ہے،میں اپنی زندگی میں جتنا چاہوں گا استعمال کرلوں گا اور جب میری وفات ہو جائے تو بقیہ تمام رقم ایک دینی ادارے کا نام لیکر کہا کہ اس کو وقف تصور ہو گی ، اب فریق اول میرے والد محترم محمد رفیق شاکر کی وفات ہو چکی ہے ، انہوں نے اپنی زندگی میں کچھ رقم بوقت ضرورت استعمال کر لی ہے، اب جو مال فریق ثانی محمد عثمان کے پاس موجودہے اس کی شرعی طور پر تقسیم کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے ، جبکہ اس وقت فریق اول محمد رفیق شاکر کے ورثاء میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
واضح ہوکہ اگر کوئی شخص اپنے کل مال کی وصیت کردے تو یہ وصیت ایک تہائی سے زائد میں کالعدم شمار ہوگی، چنانچہ ورثاءپر کفن دفن کےاخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال کے صرف ایک تہائی کی حد تک وصیت پر عمل کرنا لازم ہوگا، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ اپنے والد مرحوم کی وصیت کو کل مال میں نافذ کرنا چاہیں تو انہیں اس کا مکمل اختیار حاصل ہے،لہذا سائل کے والد مرحوم کا جو ترکہ مسمیٰ محمد عثمان کے پاس بطور امانت رکھا ہے، اس میں حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال کے ایک تہائی کی حد تک وصیت کے مطابق مذکور ادارے میں رقم جمع کرانا لازم ہے، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ اپنی رضامندی سے مرحوم کی وصیت کے مطابق مکمل رقم مذکور ادارے میں جمع کرانا چاہیں تو اس کا ان کو اختیار ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے ، مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک وصیت پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ،اس کے کل آٹھ(8) حصے کیے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دو(2) حصے،جبکہ ہر بیٹی کو ایک(1) حصہ دیا جائے -
کما فی الدر المختار: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) الخ (کتاب الوصایا،ج6،ص650،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية(کتا ب الوصایا،ج6،ص90،ط:ماجدیہ)۔