حاجی غلام اللہ1999 میں ایک روڈ حادثے میں وفات پاچکے ہیں ، اور پسماندگان میں ایک اہلیہ، سات بیٹی، اور پانچ بیٹے ہیں، حاجی غلام اللہ مرحوم کے وفات کے بعد ان کی جائیداد ان کے بھائیوں نے وارثین میں باہمی رضامندی سے منصفانہ تقسیم کی۔
عرض یہ ہے کہ حاجی غلام اللہ کے بڑے بیٹے ثناء اللہ کے حصے میں جو زمین آئی ہے، یہ زمین بر مہ ہوٹل سریاب روڈ کو ئٹہ میں واقع ہے، اور 1999 سے بھی ثناء اللہ اپنا کاروبار کر رہے ہیں، ثناء اللہ نے اسی زمین سے مسجد کیلئے بھی ایک ٹکڑا زمین وقف کیا ہے، مذکو رہ زمین کا انتقال ابھی تک ثناء اللہ کے نام نہیں ہوا ہے ، انتقال کرنے کےلئےجب ہم سابقہ مالکِ زمین کے پاس گئے جس سے حاجی غلام اللہ نے زمین خرید ی تھی ، وہ بندہ بھی فوت ہو چکا ہے، سابقہ مالک کے بیٹے نے یہ بولا کہ میرے والد نے وصیت کی ہے کہ انتقال حاجی غلام اللہ کے تمام وارثین میں شریعت کے روسے تقسیم کیا جائے، مسئلہ یہ ہے کہ مذ کو رہ ز مین حاجی غلام اللہ کے بڑے بیٹے ثناء اللہ کی ملکیت ہے، زمین کو ثناء اللہ کے نام کرنے سے حاجی غلام اللہ کی اہلیہ ، تمام بیٹے ، اور تمام بیٹیوں کو کوئی اعتراض نہیں، لہذا سابقہ مالک کے اعتراض کو دور کر کے انتقال ثناء اللہ کے نام کر کے مسئلہ کو حل کر کے مشکور فرمائیں۔
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں، اور اس میں اس بات کی بھی صراحت نہیں کہ مرحوم غلام اللہ نے جب مذکور زمین با قاعدہ اس کے مالک سے خرید لی تھی، تو اب سابقہ مالک کے بیٹے کا اس میں دخل اندازی کی کیا وجہ ہے ؟ تاہم مذکور زمین اگر مرحوم حاجی غلام اللہ نے سابقہ مالک کی رضا مندی سے خریدی ہو ، اور پھر مرحوم غلام اللہ کی وفات کے بعد اس کے ورثاء نے (شرعی طریقہ کار کے مطابق) ترکے کی منصفانہ تقسیم کر لی ہو تو ایسی صورت میں سابقہ مالک کے بیٹے کے لئے اس زمین میں دخل اندازی کرنے کا اختیار حاصل نہ ہو گا۔
تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اسکی مکمل وضاحت کر کے سائل سوال دوبارہ ای میل کر دے ، اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا ۔