استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:میرے پاس چھ یتیم بچوں اور ایک ان کی والدہ کی امانت پانچ لاکھ(500000) پاکستانی روپے موجود ہیں،بچوں میں سب سے بڑا لڑکا ہے،جس کی عمر تقریباً پندرہ سال ہے،یہ بچہ حافظِ قرآن ہے اور درجہ ثانیہ میں پڑھ رہا ہے،باقی سب بچے اس سے چھوٹے ہیں اور گاؤں میں اپنے چچاؤں کے کفالت پر زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی بیٹھک میں رہائش پذیر ہیں،گاؤں میں ذاتی مکان نہیں اور دادا کی زمین میں حصہ ہے اور ان بچوں کے والد صاحب نے کراچی کے مضافات میں دوسرے شراکت دار کے ساتھ مل کر ایک پلاٹ حصہ داری میں خریدا تھا اور پلاٹ کی آدھی رقم دی تھی،ان بچوں کے والد فوت ہوجانے کے بعد دوسرا شراکت دار یہ پلاٹ یتیم بچوں کو دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور بچوں میں دو لڑکے اور چار لڑکیا ہیں۔
سوال: (1): کیا شریعت یہ اجازت دیتی ہے کہ ایسے یتیم بچوں کی رقم کو بینکاری میں استعمال کرکے اس کا منافع ان بچوں کی ضروریات میں لگایا جائے؟
(2):کون سا بینک اور کون سا اکاؤنٹ ہو؟
(3): میزان بینک یا دوسرا کوئی اسلامی بینک مناسب ہوگا؟
(4):یا دوسری کوئی صورت ان بچوں کی امداد رسانی کے لئے موزوں ہوگا؟
یتیم بچوں کے والدِ مرحوم نے اگر وفات کے وقت سائل کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے نگران اور ذمہ دار(وصی ) مقرر کیا تھا تو سائل کو ان نابالغ بچوں کے فائدے کے لئے ان کی طرف سے مفید معاملات کرنے کی شرعاً اجازت ہوگی،لہذا سائل کے پاس مرحوم کی جو رقم(پانچ لاکھ روپے) موجود ہیں،اس میں چونکہ مرحوم کی بیوہ اور تمام بچوں کا حق ہے،اس لئے اگر سائل اس رقم کو کسی محفوظ تجارت میں لگانا چاہتا ہو تو مرحوم کی بیوہ اور بالغ بچوں سے اجازت لے کر اس پوری رقم کو مستند مفتیانِ کرام کے زیرِ نگرانی اپنے معاملات سرانجام دینے والے غیر سودی بینک(میزان بینک،بینک اسلامی وغیرہ) میں رکھنے کی شرعاً گنجائش ہے،جبکہ مرحوم کے ساتھ مذکور پلاٹ میں شراکت دار شخص اگر اپنا حصہ بچوں کو دینا چاہتا ہو تو یہ بلاشبہ جائز اور باعثِ اجروثواب ہے،لیکن فقط زبانی کلامی دینے سے بچے اس حصے کے مالک نہیں بنے گے، بلکہ اس کے لئے اگر یہ صورت اختیار کرلی جائے کہ مذکور پلاٹ میں شریک جو حصہ ہے،وہ اگر قابلِ تقسیم ہو(یعنی مرحوم کے بچوں میں تقسیم کرنے کے بعد ہر فرد اپنے حصے سے مستفید ہوسکتا ہو) تو بالغ بچے کے حصے کی تعیین کرکے اس کے حوالے کی جائے،جبکہ نابالغ بچوں کی طرف سے سائل بقیہ حصہ پر قبضہ کرلے،چنانچہ اس طرح کرنے سے مرحوم بچے پلاٹ کے بقیہ حصے کے مالک بن جائیں گے،سائل کو چاہیے کہ یہ تمام کام باقاعدہ تحریری طور پر گواہوں کی موجودگی میں سرانجام دینے کا اہتمام کیا کرے،تاکہ بعد میں کسی قسم کی بےضابطگی یا بدگمانی کا اندیشہ نہ ہو۔
کمافی الدرالمختار: (وجاز) لو اتجر من مال اليتيم (لليتيم) اھ(6/712)۔
وفی الفتاوی الھندیة:وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق اھ(4/338)۔
وفی تبیین الحقائق: اما اذا اتجر للصغیر یجوز قال قاضیحان یتجر بمال الیتیم للیتیم(الیٰ قوله)لان الاصلح له التجارة تثمیرا لماله اھ(6/212)۔
وفیه ایضاً: وکذا لو اتجر للیتیم فارتھن او رھن لان الاولیٰ له التجارة تثمیراً لمال الیتیم اھ(6/213)۔
وفی الفقه الحنفی وادلته: لاتصح الھبة الا بالاتیان برکنیھا ورکن الھبة الایجاب (الیٰ قوله)وتمام الھبة بالقبض لانه ضروری لثبوت الملك للموھوب له(الیٰ قوله)والدلیل علیٰ ان القبض من تمام الھبة اھ(3/89)۔