کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ (۱) میری ایک خالہ زاد بہن ہے، ان کے خاوند کا انتقال ہوئے کم وبیش 4 سال گزرتے ہیں ، ورثاء میں ان کی بیوہ کے علاوہ تین صاحبزادے ہیں ، اور نو صاحبزادیاں ہیں، مرحوم کے دو پلاٹ ہیں، جوان ہی کے نام ہیں، جب کہ ایک پلاٹ جو ان دو پلاٹوں کے ساتھ ہے، مرحوم کی زوجہ کا ہے، اور ان ہی کے نام ہے، ان تینوں پلاٹوں پر مرحوم نے از خود بلڈنگ تعمیر کرائی ،جو دفاتر اور دکانوں پر مشتمل ہے ، جب ان تینوں پلاٹوں پر بلڈنگ تعمیر ہو چکی، تو مرحوم نے اپنے دو پلاٹوں پر تعمیر کی ہوئی بلڈنگ بھی انتقال سے قبل اپنی زوجہ کے نام گفٹ کر دی، اور اس طرح اب یہ تین پلاٹوں پر تعمیر شدہ مکمل بلڈنگ ، مرحوم کی زوجہ کی تحویل میں ہے، از راہِ کرم شریعت کے احکامات کی روشنی میں اس بلڈنگ کو ورثہ میں تقسیم کا طریقہ کار فریادیجیے۔ آپ کا بے انتہا شکریہ! والسلام
اگر مذکور تعمیر مرحوم نے با ضابطہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ بیوی کے نام کر دی تھی، تو وہ تنہا اسی کی ملک ہے، دوسروں کا اس میں اپنی حصہ داری کا دعوی کرنا یا ترکہ میں سے شمار کر کے اس کی تقسیم کا مطالبہ کرنا قطعاً درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔ اور اگر اس نے مالکانہ قبضہ کے ساتھ یہ بلڈنگ بیوہ کے نام نہ کی ہو، بلکہ محض کاغذوں میں نام کر دی ہو تو اس صورت میں بیوہ مرحوم کی جائیداد کی تنہا مالک نہیں بنی، بلکہ اس صورت میں یہ بلڈنگ اور اس کے علاوہ سائل کی خالہ زاد بہن کے شوہر مر حوم کے ترکہ میں جو کچھ مال و جائیداد ہے وہ اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگا۔
ففی الدر المختار: و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (5/ 688)۔