میرا سوال یہ ہے کہ اگر والدین میں سے کوئی بھی ایک رحلت کر جائے، اس کی رحلت کے کچھ عرصہ بعد بیٹے کے علم میں آئے کہ والدین نے اپنی زندگی میں زبانی وصیت کی تھی کہ ہمیں انتقال کے بعد ہمارے آبائی گاوں میں دفن کرنا، مگر بیٹوں نے لاعلمی کے نتیجے میں ان کی تدفین اپنی مرضی سے اپنے گھر کے قریبی قبرستان میں کردی، کیا ایسی صورت میں قرآن و سنت کی روشنی میں کوئی ہدایات ہیں؟ اگر قرآن و سنت کی روشنی میں کوئی ہدایات ہیں تو براہ کرم رہنمائی فرمائی جائے کہ اب والدین کی وصیت علم میں آنے کے بعد کیا کیا جائے؟
واضح ہو کہ کسی خاص مقبرہ میں تدفین سے متعلق وصیت کرنے سے ورثاء پر اس وصیت کے مطابق عمل کرنا شرعاً لازم نہیں، بلکہ شریعت نے اس طرح کی وصیت کو کالعدم شمار کیا ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں والدین نےاگر چہ اپنے آبائی گاؤں میں تدفین کی وصیت کی ہو، لیکن اولاد کے لئے ان کی وصیت پر عمل کرنا شرعاً لازم نہیں تھا اور نہ ہی اس وصیت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اولاد گنہگار ہوگی۔
کما فی الدرالمختار: أوصى بأن يصلي عليه فلان أو يحمل بعد موته إلى بلد آخر أو يكفن في ثوب كذا أو يطين قبره أو يضرب على قبره قبة أو لمن يقرأ عند قبره شيئا معينا فهي باطلة سراجية وسنحققه.اھ(ج6، ص666، ط۔سعید)۔