میری عمر 45 سال ہے ، میں اپنی بہن جس کا 2 سال پہلے انتقال ہو گیا تھا ، اس کے 6سال کے بیٹے کو پال رہی ہو ں، میری شادی نہیں ہوئی، اور والد کا 6 سال پہلے انتقال ہو چکا ہے ، میں اپنے والد کے گھر میں والدہ اور 2 بھائیوں اور ان کی فیملی کے ساتھ رہتی ہوں میرا سوال یہ ہے ، کہ کیا میں اپنی والدہ سے اپنی والد کی وراثت میں سے اپنا حصہ مانگ سکتی ہوں اور الگ گھر لے کے رہ سکتی ہوں، ہمارے گھر میں 6 کمرے ، 6 بات روم ، 2 کچن ، 2 ڈرائنگ کمرے اور 2 TV کمرے ہیں ، مطلب اوپر نیچے 2 گھر یا دو منزل ہے ، میں صرف ایک کمرے میں اپنے بھانجے کے ساتھ رہتی ہوں، اور بڑے بھائی کے پاس جو کچن ہے وہ استعمال کرتی ہوں، بڑے بھائی کی منزل میں ایک کمرے میں میری والدہ رہتی ہیں ، اور چھوٹے بھائی کی منزل میں میں رہتی ہو ، یہ گھر میرے والد نے بنایاتھا ، میری والدہ نہ مجھے میرا حصہ دیتی ہے ، نہ ایک کمرے کے علاوہ میرا گھر کے کسی حصے پہ اختیار ہے ، میرے بھائیوں کی اچھی نوکری اور کار اور پلاٹ ہیں ، چاہیئے تو گھر بیچے بغیر بھی وراثت سے میرا حصہ دے سکتی ہیں ، لیکن میری والدہ ایسا بھی نہیں کرنے کو کہتی ، اور کہتی ہیں جب تک میں زندہ ہوں، تمہیں وراثت نہیں مل سکتی جب کے یہ گھر میرے والد کے نام پر ہے۔
سوال میں ذکر کر دہ وضاحت اگر واقعۃ ًدرست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اورواقعۃ سائلہ کے مطالبہ کے باوجود سائلہ کی والدہ ترکہ کی تقسیم میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہو، یااپنی زندگی میں تقسیم کے لئے تیار نہ ہو، تو ان کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں ، بلکہ ان کو چاہیے کہ مرحوم شوہر کا ترکہ تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کرکے اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرے ۔
تاہم اگر تمام ورثاء فی الحال ترکہ تقسیم نہ کر نے پر راضی ہو جائیں تو ورثاء کی باہمی رضامندی سے ترکہ کی تقسیم مؤخر کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔
کما في الدر المختار :(و قسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل )بحصته (بعد القسمة و بطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) و في الخانية : يقسم بطلب كل وعليه الفتوى ، لكن المتون على الأول فعليها العول (و إن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض (کتاب القسمة ج 6 ص260 ط: سعید)۔
وفى الهندية : وأما بيان الوقت الذى يجرى فيه الارث فنقول هذا فصل اختلف المشايخ فيه قال مشايخ العراق الارث يثبت فى آخر جزء من جزاء حيات المورث وقال مشايخ بلغ الارث يثبت بعد موت المورث (كتاب الفرائض ج 8 ص 488 ط : ماجد یہ )۔