بخدمت جناب مفتیانِ کرام مدرسہ ( جامعہ بنوریہ ) سائیٹ ایریا کراچی جنابِ عالی ! عرض یہ ہے کہ نصر اللہ خان آفریدی ولد نصیر خان آفریدی سن 2020 میں انتقال فرما گئے ، مرحوم نے مندرجہ ذیل ورثاء چھوڑے ہیں۔
(1) بیوہ شامیہ بیگم (۲) بیٹی نسیم بیگم
مزید یہ کہ مرحوم کا ایک سوتیلا( باپ شریک )بھائی عزیز خان بھی تھا ،عزیز خان اور انکی والدہ محترمہ نصراللہ خان آفریدی کی فوتگی سے کافی عرصہ پہلے انتقال کر چکے ہیں ، لیکن عزیز خان کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ، اس کے علاوہ مرحوم کے والدین بھی فوت ہو چکے ہیں ،مرحوم کے ترکہ میں مکانات اور بینک لاکر کے اندر کچھ نقدی ہیں،اور مرحوم نے اپنی فوتگی سے ایک سال پہلے ایک وصیت بھی چھوڑی ہے ،جس کی کاپی درخواست کے ساتھ منسلک ہے ،مرحوم کی ترکہ کی شرعی تقسیم کے بارے میں وضاحت درکار ہے ،اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں ،نیز مرحوم کی ایک وصیت بھی موجود ہے ،اس میں شرعاً کیا حکم ہے ، آپکی عین نوازش ہوگی ۔نوٹ : مرحوم کے والدین اور بھائی بہن وغیرہ کوئی بھی موجود نہیں۔
واضح ہو کہ وارث کے حق میں کی جانے والی وصیت شرعاً معتبر نہیں ،اور نہ ہی دیگر ورثاء پر اس وصیت کے مطابق عمل کرنا لازم ہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مرحوم نصراللہ خان آفریدی نے گوادر اور کر اچی میں موجود جائیداد اور بینک لاکر میں موجود رقم کے متعلق اپنی بیوی کے حق میں جو وصیت کی ہے، وہ شرعاً معتبر نہیں ،چنانچہ اس وصیت کی بنیاد پر مرحوم کی بیوہ مذکور تمام مال وجائیداد کی حقدار نہ ہوگی ،اسی طرح مرحوم نے گاؤں میں موجود جائیداد کے متعلق اپنی خواہش کا جو اظہار کیا ہے ،کہ "اس پر مدرسہ یا گھر تعمیر کیا جائے "شرعاً ورثاء کے ذمہ اس پر عمل کرنا بھی لازم اور ضروری نہیں،بلکہ یہ سارا مال وجائیداد مرحوم کی بیوی سمیت اس کے تمام ورثاء میں حسب ِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا ، البتہ اگر مرحوم کے ورثاء مرحوم کی وصیت اور خواہش کے مطابق عمل کرنا چاہیں ،تو شرعاً یہ بھی جائز اور درست ہے، لیکن ایسا کرنا ان کے ذمہ لازم اور ضروری نہیں ۔
اسکے بعد واضح ہو کہ مرحوم نصر اللہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،اس میں سے بالترتیب حقوقِ متقدمہ علی المیراث(کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الاداقرضوں اور حق ِ مہر کی ادائیگی ، اور بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل ) کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل آٹھ (8)حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو ایک (1)حصہ ، بیٹی کو چار (4) حصے ،جبکہ ہر سوتیلے بھتیجے کو ایک(1)حصہ دیا جائے۔
کما فی الھدایۃ : "ولا تجوز لوارثه" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه، ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية لأنه تمليك مضاف إلى ما بعد الموت، وحكمه يثبت بعد الموت. "والهبة من المريض للوارث في هذا نظير الوصية" لأنها وصية حكما حتى تنفذ من الثلث، وإقرار المريض للوارث على عكسه لأنه تصرف في الحال فيعتبر ذلك وقت الإقرار. قال: "إلا أن تجيزها الورثة" اھ (4/514) ۔