کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کی ملکیت میں دو طرح کی جائیداد تھی، ایک انگلینڈ میں ، اور دوسری یہاں پاکستان میں واقع ہے ، والد صاحب نے اپنی حیات میں سن ۲۰۱۱ء کو انگلینڈ کی جائیداد کے بارے میں، پہلی وصیت یہ کی کہ میرے مرنے کے بعد مذکور جائیداد میری اولاد کے مابین شریعت کے مطابق تقسیم کی جائے ، جبکہ بہن کے کہنے پر ، ہمارے علم میں لائے بغیر سن ۲۰۱۴ کو دوسری وصیت کی، جس میں مذکور جائیداد ہم بھائی، بہنوں میں برابری کی بنا پر تقسیم کرنے کا ذکر ہے۔
میرے والد صاحب سن ۲۰۱۵ء میں انتقال کر چکے ہیں ، جن کے ورثاء میں مرحوم کے انتقال کے وقت بیوہ، تین بیٹے ( تفضل حسین، قبل حسین، شہباز حسین) اور دو بیٹیاں رخشنده دین، طیبہ ارجمند) موجود تھیں ، اور اب سن ۲۰۱۸ کو والدہ بھی وفات پا چکی ہے، تو سوال یہ ہے کہ والد کی دونوں وصیتوں میں سے کون سی وصیت شرعا معتبر ہوگی؟ بقیہ جائیداد میں ہمارے بہن، بھائیوں کا شرعاً کیا حصہ بنتا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم کی مذکور وصیت کہ" انگلینڈ والی جائیداد بیٹوں اور بیٹیوں میں برابر تقسیم ہو "وارث کے حق میں ہونے کی وجہ سے شرعاً معتبر نہیں، الا یہ کہ سائل اور اس کے دیگر بھائی اس وصیت کو نافذ کرنا چاہیں، تو اس کا انہیں اختیار ہے، لہذا سائل اور دیگر ور ثاء مرحوم کے ترکہ میں حسبِ حصصِ شرعیہ حقدار ہونگے ، جس کا طریقہ درجِ ذیل ہے۔
چنانچہ واضح ہو کہ سائل کے والدین مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا چاندی، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں حقوق متقدمہ علی المیراث ( کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا، قرضوں کی ادائیگی اور جائز وصیت پر ایک تہائی کی حد تک عمل کرنے کے بعد)، جو کچھ بچ جائے اس کے کل آٹھ (8) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دو 2 حصے ، اور ہر ایک بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائیگا ۔
ففي البحر الرائق: إن الوصية للوارث لا تجوز إلا بإجازة الورثة اھ (8/ 460)۔
و في اللباب في شرح الكتاب: (إلا أن يجيزها الورثة) بعد موته وهم كبار؛ لأن الامتناع كان لحقهم، فتجوز بإجازتهم، وإن أجاز بعضهم دون بعض جاز على المجيز بقدر حصته اھ (ص: 414)۔
و في اللباب في شرح الكتاب: ويجوز للموصي الرجوع عن الوصية، فإذا صرح بالرجوع، أو فعل ما يدل على الرجوع كان رجوعاً (إلی قوله) (ويجوز للموصي الرجوع عن الوصية) ، لأنها تبرع لم يتم، فجاز الرجوع فيه كالهبة اھ (4/ 178)۔