کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک مکان ہے ، جس کے کاغذات میں نے اپنے اکلوتے بیٹے کے نام کئے ہیں، لیکن باضابطہ اس پر اسے قبضہ نہیں دیا، اس مکان میں تاحال میں خود اور اپنے اہل، عیال کے ساتھ رہ رہا ہوں، لیکن اب میرا بیٹا شادی کے بعد اپنی بیوی کی باتوں میں آکر مجھے اور میری اہلیہ پر تشدد کرتا ہے ، اور ہمیں اس مکان سے نکالنا چاہتا ہے ، کیا اس طرح وہ اس مکان کا مالک بن گیا ہے ، اور اس کا یہ عمل اپنے والدین کے ساتھ درست ہے ؟
۲:اس مکان کے متعلق میں نے اپنے چار بیٹیوں کے نام ایک وصیت نامہ بھی لکھوایا ہے ، اس کی کیا حیثیت ہو گی میرے انتقال کے بعد ؟
1 : سائل کا بیان اگر درست و حقیقت پر مبنی ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل نے مذکور مکان فقط بیٹے کے نام کیا ہو ، اور اس پر اسے مکمل تصرف و قبضہ نہ دیا ہو، نیز تا حال سائل اپنے اہل و عیال سمیت مذکور مکان میں رہائش پذیر ہو ، تو صرف کاغذات میں نام کرنے سے شرعا یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا ، لہٰذا مذ کور مکان بدستور سائل ہی کی ملکیت ہے، جبکہ مذکور بیٹے کا اپنے والدین سے اس طرح کا رویہ اختیارکرنا انتہائی نامناسب اور غلط ہے، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی ہو رہا ہے، مذکور بیٹے پر لازم ہے کہ اپنے مذکور رویہ سے باز آکر اپنے والدین سے دست بستہ معافی مانگے ، اور آئندہ کے لئے والدین کی فرمانبرداری کرتے ہوئے، دنیاد آخرت کے مؤاخذہ سے بچنے کی فکر کرے۔
2:وارث کے حق میں چونکہ وصیت معتبر نہیں ہوتی ، اس لئے جو وصیت سائل نے بیٹیوں کے حق میں کی ہے ، وہ سائل کے انتقال کر جانے کی صورت میں ورثاء کے حق میں ہونے کی وجہ سے درست نہ ہوگی ، بلکہ تمام جائیداد ان کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہو گی۔
کمافي أحكام القرآن للجصاص: قال الله تعالى وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا وقضى ربك معناه أمر ربك وأمر بالوالدين إحسانا وقيل معناه وأوصى بالوالدين إحسانا والمعنى واحد لأن الوصية أمر وقد أوصى الله تعالى ببر الوالدين والإحسان إليهما في غير موضع من كتابه ( الى قوله) قوله تعالى ولا تنهرهما معناه لا تزجر هما على وجه الاستخفاف بهما والإغلاظ لهما اھ (5/ 19)۔
كما في الدر المختار : و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. ( الى قوله) (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)
ففي البحر الرائق: إن الوصية للوارث لا تجوز إلا بإجازة الورثة اھ (8/ 460)۔
و في اللباب في شرح الكتاب: (إلا أن يجيزها الورثة) بعد موته وهم كبار؛ لأن الامتناع كان لحقهم، فتجوز بإجازتهم، وإن أجاز بعضهم دون بعض جاز على المجيز بقدر حصته اھ (ص: 414) والله اعلم بالصواب