کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان متین اس مسئلہ کے بار میں کہ ایک آدمی نے اپنا مکان چھیاسٹھ (۶۶) لاکھ روپے میں فروخت کیا ہے، جس سے گورنمنٹ کے واجبات کے ساتھ بروکر حضرات کا کمیشن جو بنا وہ تین لاکھ پینسٹھ ہزار بنا، یہ رقم اصل رقم یعنی چھیاسٹھ لاکھ سے کم کر کے باقی رقم باسٹھ لاکھ پینتیس ہزار بنی، جبکہ فروخت کنندہ سترہ لاکھ کا مقروض بھی ہےقرضے کی ادائیگی کے بعد بقایا پینتالیس لاکھ پینتیس ہزار بنتی ہے، اب فروخت کنندہ یہ رقم اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہے وراثت کا معاملہ مرنے کے بعد ہوتا ہے، لیکن بعد کے تنازعات سے بچنے کے لیے یہ عمل زندگی میں ہی انجام دیتا ہے، اب فروخت کنندہ اور اس کی بیوی کے علاوہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں بھی ہیں اب مذکورہ رقم ان افراد میں کیسے تقسیم کی جائے ،براہ کرم اس کا شرعی حکم تفصیل سے تحریر میں فرمائیں جزاکم اللہ۔
صورت مسئولہ میں شخص مذکور اگر واقعۃً اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہے تو اس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ مال وغیرہ رکھنا چاہتا ہے وہ کچھ رکھ کر باقی مال و جائیداد اپنی اولاد میں برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دے، محض کاغذوں میں نام کرنا درست اور کافی نہیں۔ البتہ اولاد میں سے کسی کی دینداری ، خدمت گزاری یا محتاجگی وغیرہ کی بناء پر اسے دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے، مگر بلا وجہ کسی کو بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے ۔
ففي صحيح البخاري: عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما، وهو على المنبر يقول: أعطاني أبي عطية، فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية، فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟»، قال: لا، قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم» اھ (3/ 158)
(کذا فى المشكاة ص: ۲/ ۹۰۹)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (فقال: آكل ولدك) : بنصب كل (نحلت مثله) أي: مثل هذا الولد دل على استحباب التسوية بين الذكور والإناث في العطية اھ (5/ 2008)
و في اعلاء السنن : اقول وذهب الجمهور الى ان التسوية بين الاولاد فى العطايا مستحبة فان فضل بعضاً صحّ وكره (ص: ۱۶/ ۹۴) وقال قبل ذالك - قلنا هذا اذا كان قصد الاضرار لهم والافلا اھ (۱۶/ ۹۵) وقال بعد ذلك ويقول بجواز التفضيل اذا كان لمعنى يقتضيه مثل اختصاص واحد من الأولاد بحاجة او اشتغاله بالعلم او صرف عطیته عن بعض ولده لفسقه أو بدعته اھ (۱۶/ ۹۱)
و في الخانية: لا بأس بتفضيل الأولاد على البعض في المحبة لان المحجبة عمل القلب وذالك غير مقدور (إلی قوله) وروى عن أبى حنيفة انه لا بأس ان كان التفضيل لزيادة فضل له في الدین فإن کانا سواء یکره وروى المعلى عن ایی یو سف انه لا بأس به الا لما يقصد به الاضرار وان قصد به الاضرار سوى بينهما يعطى للابنة مثل ما يعطى للا بن .... وعليه الفتوى اھ (۳/ ۲۷۹)
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)
وفيه ايضاً : و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى اھ (5/ 696)
و في الفتاوى الهندية؛ ولو كان الولد مشتغلا بالعلم لا بالكسب فلا بأس بأن يفضله على غيره كذا في الملتقط اھ (4/ 391)
و في الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض (إلی قوله) لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية اھ (4/ 391)
و في الدر المختار: و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (5/ 688)