میرا تعلق پیشۂ وکالت سے ہے ، ہمارے ہاں ایسے بہت سے مقدمات ہیں جن میں والد اپنی تمام جائیداد اپنے بیٹوں کو ہبہ کر دیتے ہیں اور بیٹیوں کو محروم کر دیتے ہیں ، کیا ان کا ایسا کرنا جائز ہے؟ براہِ کرم حوالہ جات کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔
اس سوال کے جواب کی وضاحت میں ان احکامات پر بھی بحث فرمایۓ ۔
1۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے وراثت کا حکم فرماتے ہوئے والدین سے خطاب فرمایا ہے کہ انہیں اولاد (کے بارے میں وراثت) کےمتعلق وصیت کی جاتی ہے کہ بیٹے کو بیٹی سے دو گنا دو ، لیکن ادھر والدین اپنی اولاد کے ایک حصہ کو وراثت سے محروم کر دیتے ہیں ، اپنی کچھ اولادکو ساری جائیداد ہبہ کر دینے سے کیا اس قرآنی حکم کی نافرمانی لازم آتی ہے؟
2۔ ایک شخص صرف ایک تہائی حصہ کی وصیت کر سکتا ہے ، جو اس سے زیادہ ہو گی تو وہ وارثان کی رضامندی سے نافذ ہو گی ، مگر یہاں والدین ہبہ کرتے ہوئے ایک تہائی حصہ کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھتے اور ساری ہی ہبہ کر دیتے ہیں اور اپنی اولاد کے ایک حصہ کو وراثت سے محروم کر دیتے ہیں ، کیا ہبہ کے معاملے میں وصیت کا اصول ایک تہائی دخل دیتا ہے یا ںہیں؟
3۔ اسلام میں اپنی اولاد کو عاق کرنے سے متعلق کیا احکامات ہیں؟ جب والدین اپنی اولاد میں کچھ کو ساری جائیداد ہبہ کرتے ہوئے باقی اولاد کو محروم کر دیتے ہیں تو کیا یہ بھی ایک قسم کا عاق ہی سمجھا جائے گا؟
(1)واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل ، اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو تقسیم پر مجبور کرے ،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں ، بلاجبر و اکراہ محض اپنی مرضی و خوشی سےاپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے ، تو اسے اس کا اختیارہے ، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ) کا کہلائیگا ، جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لۓ جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اگربیوی کو کچھ دینا چاہے تو وہ انہیں دیکر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک و قابض بھی بنادے ، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے ،محض کاغذات میں نام کردینا کافی نہیں ، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے ، دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے ، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے ، کہ گناہ کی بات ہے۔
(2) وصیت اس تصرف کو کہا جاتا ہے ، جس کی تنفیذ اور اس پر عمل وصیت کرنے والے کی زندگی کے بعد ہوتا ہے ، اور اس مال کے ساتھ ورثاء کا بھی حق متعلق ہوجاتاہے، اس لۓ شریعتِ مطہرہ نے اس کے لۓ باقاعدہ ضابطہ بھی مقرر فرمایا ہے ، کہ اس کی تنفیذ ایک تہائی کی حد تک ہوگی ، جبکہ ہبہ کا تعلق ، ہبہ کرنے والے کی زندگی میں اس کے تصرف اور اختیار کے ساتھ ہوتا ہے، جو اپنے مال کا مالک اور خود مختار ہوتا ہے، اس لۓ دونوں کا حکم الگ الگ ہے۔
(3) جہاں تک ہمارے عرف میں اولاد کو عاق کرنے کا تعلق ہے ، تو اس کا مطلب اولاد میں سے کسی نافرمان بیٹے یا بیٹی کو اپنی جائیداد محروم کرنا ہوتا ہے، لیکن اگر تقسیمِ جائیداد کا یہ عمل صاحبِ مال کی زندگی میں عمل میں آجائے تو اس کا حکم اور تفصیل شق نمبر 1 کے تحت گزرچکا ہے، البتہ اگر اس کے انتقال کے وقت کچھ بھی مال موجود ہو ، تو دیگر ورثاء کی طرح عاق کردہ اولاد بھی ، اپنے حصۂ میراث کی حقدار ہوگی ، محض عاق کرنے کی وجہ سے اس کا حصۂ میراث ختم نہیں ہوگا۔
فی مشکاۃ المصابیح : و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني نحلت ابني هذا غلاماً ، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال : لا قال : «فأرجعه» و في رواية قال : «فاتقوا الله و اعدلوا بين أولادكم»'۔اھ (1/261باب العطایا، ط: قدیمی)۔