میری ایک بیوی اور چار بیٹیاں ہیں , بیٹا کوئی نہیں، چار بھائی اور تین بہنیں ہیں والدین کا انتقال ہو چکا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد میرا گھر جو میری اپنی کمائی سے بنا ہوا ہے اور جمع شدہ مال میری بیوی اور چار بیٹیوں میں تقسیم ہو، تاکہ ان کو میرے انتقال کےبعد معاشی تنگی نہ ہو ،کیا میرے لئے جائز ہے کہ میں اپنی زندگی میں وصیت نامہ میں تحریر کر دوں کہ میرے مرنے کے بعد میری جائیداد اور جمع شدہ رقم میری بیوی اور بیٹیوں میں تقسیم کی جائے مثلاْ ( 50۔50 پچاس فیصد۔پچاس فیصد )تناسب سے؟
واضح ہو کہ وارث کے حق میں شرعاً وصیت معتبر اور لازم نہیں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگر اپنی بیوی اور بیٹیوں کے متعلق وصیت کرے تو شرعاً یہ وصیت معتبر اور لازم نہ ہوگی بلکہ سائل کی وفات کے وقت اگر اس کے بہن بھائی موجود ہوں گے تو شرعاْ وہ بھی ترکے میں اپنے شرعی حصوں کے بقدر حصہ دار ہو نگے-
البتہ اگر سائل کی بیوی اور بیٹیاں نادار اور محتاج ہوں اور سائل کا قصد و ارادہ اپنے بہن بھائیوں کو وراثت سے محروم کرنے کا نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر سائل اپنی صحت والی زندگی میں اپنی جائیداد اور جمع شدہ رقم اپنی بیوی اور بچوں کے درمیان تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کا حصہ ہبہ(گفٹ) کر دے تو شرعاً ایسا کرنا جائز ہے اور اس طرح کرنے سے اس کی بیوی اور بیٹیوں میں سے ہر ایک اپنے اپنے حصے کی مالک بن جائے گی، چنانچہ پھر سائل کی وفات کے بعد اس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہ ہوگا ،جبکہ اس تقسیم کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی اوراپنی بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی مذکور بیٹیوں میں تقسیم کرکے ہر بیٹی کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعا بھی درست ہو جائے ، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب بیٹیوں کو برابر و یکساں رکھے ، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اسکی اولاد ہیں ، البتہ اگر کسی بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری ، معذوری و غیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعا ْاس کی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی ایک کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی الدر المختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه الخ(ج6 ص656)۔
وفی رد المحتار : ولو وھب شیئا لاولادہ فی الصحۃ واراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفہ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل الدین الخ (ج 4 ص 444)۔
وفی الھندیۃ: ومنھا (من شرائط الھبۃ) ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ (ج 4 ص 374)۔