میرے والد کے مرنے کے بعد میرے بڑے بھائی نے سب کو کہا کہ ہمارے والد کی یہ وصیت تھی کہ اس کی جائدادوں میں سے ایک جائداد تبسم کو دی جائی گی، وہ میں ہوں، باقی چار بھائیوں اور بہن نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں، میرا سوال یہ ہے کہ اس طرح کی وصیت میرے والد کی بنا کسی لکھے ہوئے ثبوت کے کیا صحیح ہے؟ یا اس میں کچھ ابہام ہے؟
مرحوم کے صرف مذکور پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہی وارث ہوں اور وہ سب عاقل بالغ ہوں اور اپنی رضامندی سے مذکور وصیت کو نافذ کرنا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے اور سائلہ کیلئے شرعاً بھی اس جائداد کا لینا درست ہے۔
کما فی الدر المختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية اھ(6/656)۔