محترم علما ءِ کرام السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ !
بعد ا زسلام عرض یہ ہے کہ ہم دو بہنیں چار بھائی اور سوتیلی ماں ہیں , اور ہماری ماں بارہ سال پہلے انتقال کر گئی ہیں , اور والد محترم بھی چار سال پہلے انتقال کرگئے ہیں ، چار سال سے ہمارے بھائیوں اور سوتیلی ماں ہمارا حصہ , والد صاحب کی ایک مکان میں کی گئی وصیت کے مطابق دینا چاہتے ہیں , اور باقی کی تمام جائیداد میں نہیں دینا چاہتے ہیں , ان کا کہنا ہے کہ والد نے وصیت کی ہے کہ ان کا ساٹھ گز کے مکان پہ جو بلڈنگ ہے اس میں حصہ تسلیم کرتے ہیں لیکن والد صاحب کی بلڈ نگ کے علاوہ بھی مزید ساٹھ گز کے دو مکان ہیں اور ایک چھو ٹی دوکان ہے جس کا ذکر والد صاحب نے وصیت میں نہیں کیا , اور ایک جائیداد ہے جو دادا صاحب کی تھی , جس میں چچا رہتے تھے , اب چچا صاحب بھی انتقال کر گئے ہیں وہ بھی والد کہ حصے میں آگئی ہے جو بھائیوں کے قبضے میں ہے، بھائیوں نے جو وصیت د کھا ئی ہے اس کے مطابق صرف اسی ساٹھ گز والی بلڈنگ میں حصہ ہے اور باقی مکانات کا وصیت میں ذکر نہیں ہے , اس لئے وہ اور تمام جائیداد سے ہم بہنوں کو بےدخل کر رہے ہیں اورجو بلڈنگ والد صاحب نے بنائی ہے اس میں بھائیوں نے پچاس ہزار روپے فی بھائی نے خرچ کیے تھے ، وہ پیسے بھائیوں کو واپس کر دیے ہیں والد صاحب نے اپنی زندگی کے اندر , اس کا ذکر بھی ساٹھ گز و الی بلڈنگ کی وصیت میں کیا گیا ہے , فی کس پچاس ہزار روپے چاروں بھائیوں کو واپس کردیے ہیں ، اب ٹوٹل ملکیت یعنی ساری جائیداد والد صاحب کی ہے , اور اب بھائیوں کا والد کی تمام جائیداد میں کوئی ذاتی حصہ نہیں ہے , اب تمام جائیداد والد صاحب کی ہے , لہذا ہم دونوں بہنوں کی آپ علماءِ کرام سے اپیل ہے کہ شریعت کے مطابق جو حصہ بنتا ہے رہنمائی فرمائیں , ٹوٹل جائیداد کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے، ایک ساٹھ گز پہ تین منزلہ بلڈنگ اور دوساٹھ گز کے مکان اور چھوٹی دکان اور گاؤ ں کا مکان [ساٹھ گز بلڈنگ مالیت 8000000] [ساٹھ گز کی کے دو مکانوں کی مالیت 6000000] چھوٹی دکان کی مالیت[ 300000] اور گاؤں کے مکان کی مالیت 2800000 ٹوٹل جائیداد کی مالیت [17100000]
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق مذکور پوری جائیداد اگر سائلہ کے والد مرحوم کی ملکیت تھی , تو سائلہ کے والد مرحوم نے اگرچہ فقط ساٹھ گز پر مشتمل بلڈنگ میں بیٹیوں کو حصہ دینے کی وصیت کی ہو , تب بھی چونکہ اس وصیت کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں اس لئے سائلہ اور اس کی بہن اپنے بھائیوں اور سوتیلی والدہ کی طرح والد مرحوم کی پوری جائیداد میں اپنے حصوں کے بقدر حقدار ہو ں گی ، لہذا سائلہ کے بھائیوں کیلئے مذکور وصیت نامے کو بنیاد بناکر سائلہ اور اس کی بہن کو مرحوم کے بقیہ جائیداد سے محروم کرنا شرعاً جائز نہیں ،چنانچہ سائلہ کے بھائیوں پر لازم ہے کہ والد مرحوم کے پورے ترکے میں اپنی بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دیکر مواخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں،بصورتِ دیگر سائلہ اور اس کی بہن کو اپنے حق کی وصولیابی کیلئے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا ، جبکہ سائلہ نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائلہ کے والد مرحوم کا انتقال اپنے والد (سائلہ کے دادا مرحوم)کی زندگی میں ہوا تھا یا اس کی وفات کے بعد ؟ نیز بوقتِ انتقال مرحوم دادا کے ورثاء میں کون کون لوگ موجود تھے ؟اس لئے مکمل وضاحت سے قبل دادا مرحوم کی جائیداد کے متعلق کوئی حکم نہیں بتایا جاسکتا۔
کما فی سنن ابن ماجہ : و عن انس قال :قال رسول اللہ ﷺ:من قطع میراث وارثۃ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ (الحدیث:1/266)۔
و فی تکملۃ ردالمحتار : الارث جبری لا یسقط بالاسقاط اھ (7/505)۔