والد صاحب کی دو شادیاں ہیں، پہلی بیوی اور دوسری بیوی ،اب والد کی زندگی میں پہلی بیوی سے بیٹے کا انتقال ہوجاتا ہے 2012 میں, اس بیٹے کی تین اولاد ہیں، 2020 میں والد صاحب کا انتقال ہوجاتا ہے، اب والد کی وراثت میں اس بیٹے کی اولاد کا کیا شرعی حصہ ہے؟ اب پہلی بیوی کی باقی جو اولاد ہیں وہ کہتے ہیں کہ والد صاحب فرما گئے تھے کہ جتنا حصہ تم لوگوں کو ملے اتنا مر حوم بیٹے کی اولاد کو بھی دے دینا ،جب کہ دوسری بیوی کی اولاد کہتی ہے کہ باپ آخری وقت تک ہمارے ساتھ تھا , انہوں نے ہمیں ایسا کچھ نہیں کہا، اب پہلی بیوی کی اولاد کہتی ہیں کہ آپ بھی پورا کا پورا حصہ دو ، براہِ مہربانی اس کا جواب دیں دے، کہ مرحوم اولاد کا کیا حصہ بنتا ہے ؟ اور اگر کوئی دینا چاہے تو کتنا حصہ دے ؟اور کوئی نہ دینا چاہے جیسا کے دوسری بیوی کی اولاد کہتی ہے کہ والد نے ہمیں کچھ نہیں کہا اور ہمارے سامنے بھی کسی کو کچھ نہیں کہا ,تو حصہ نہ دینے پر کیا شرعی حکم ہے ؟
واضح ہوکہ جس بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوجائے ،اس کا یا اسکی اولاد کا والد مرحوم کی جائیداد اور ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا ،تاہم اگر وہ شخص اپنے پوتوں کیلئے وصیت کرے تو یہ وصیت پوتوں کے حق میں شرعاً معتبر ہوگی -
لہذا صورتِ مسؤلہ میں مرحوم کا اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کو یہ کہنا کہ "جتنا حصہ تم لوگوں کو ملے اتنا مرحوم بیٹے کی اولاد کو دے دینا " وصیت ہے ،لہذا اگر اس بات کا ثبوت شرعی شہادت (دو عادل مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی) کے ذریعہ ثابت ہوجائے تو اس وصیت پرکفن دفن اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد باقی ماندہ جائیداد کے ایک تہائی کی حد تک عمل کرنا شرعاً لازم ہے ،لہذا ورثاء کا اس میں ٹال مٹول سے کام لینا یا رکاوٹ بننا شرعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: (هي تمليك مضاف إلى ما بعد الموت) عينا كان أو دينا . قلت : يعني بطريق التبرع ليخرج نحو الإقرار بالدين فإنه نافذ من كل المال(الیٰ قولہ) (و تجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (و إن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه الخ
و فی الشامیة : احترز بقوله مضاف إلى ما بعد الموت عن نحو الهبة فإنها تمليك تبرع للحال اھ (6/648)۔
و فیہ ایضاً : ان شرط الارث وجود الوارث حیا عند موت المورث اھ (6/769)۔
و فی الھندیة : قال : و إذا شهد الشاهدان أن الميت أوصى إلى هذا (الیٰ قولہ) أجزت شهادتهما اھ (6/159)۔
و فی البزازیة : و لو قال فی صحتہ ثلث مالی لفلان و لو ذکرہ فی خلال الوصایا یکون وصیة او اضافہ الیٰ مابعد الموت و لو کان ذلک فی الصحة یکون وصیة و فی المرض علی ھذا اھ (6/434)۔