محترم جناب مفتی صاحب!
اگر بیوی معمولی باتوں پر شوہر اور شوہر کی والدہ سے لڑائی یا جھگڑا کرتی ہے، اور وہ شوہر کی والدہ کے ساتھ بدتمیزی یا بداخلاقی کا مظاہرہ کرتی ہے، تو جھگڑے روکنے کے لیے شوہر عارضی طور پر اپنی بیوی کو اُس کے میکے بھیج دیتا ہے۔ وہ بیوی سے وعدہ کرتا ہے کہ جیسے ہی وہ استطاعت رکھے گا، اُسے الگ گھر لے دے گا۔ شوہر پہلے ہی کرائے کے گھر میں رہ رہا ہے اور دوسرا کرایہ برداشت نہیں کرسکتا۔ وہ کھانے پینے اور کپڑوں کا خرچ فراہم کرتا ہے۔
بیوی اپنے والدین کے گھر رہتے ہوئے بھی شوہر سے گھر کا کرایہ طلب کرتی ہے (حالانکہ اس کے والدین کا اپنا گھر ہے)۔ براہِ کرم مشورہ دیں کہ آیا شوہر پر صرف نان نفقہ (کھانا، دوائیں، لباس اور روزمرہ ضروریات) دینا لازم ہے، یا گھر کا کرایہ دینا بھی ضروری ہے؟
بیوی کا اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ جھگڑا کرنا اور ساس کو گالی دینا انتہائی نا مناسب حرکت ہے، جس کی وجہ سے وہ بہت سخت گناہ گار ہوئی ہے، اس پر اپنی اس حرکت سے بہر حال اجتناب لازم ہے ،مگر شوہر نے چونکہ بیوی کو اپنی مرضی سے اس کے میکے بھیجا ہے، اس لئے شوہر پر بیوی کا نان نفقہ واجب ہے ،تاہم اگر گھر میں کوئی کمرہ ایسا ہو جو بیوی کے لئے ہی خاص کر دیا جائے اور اس میں کسی دوسرے کی آمدورفت اور عمل دخل نہ ہو تو اسے الگ سے مکان کرایہ پر لیکر اس میں رکھنا واجب نہیں،جبکہ مالی وسعت حاصل ہونے کی صورت میں لڑائی جھگڑا ختم کرنے کے لئے والدین کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ اگر اس کے لئے الگ سے گھر کا انتظام کرلے تو زیادہ بہتر ہے۔
ففي الدر المختار: (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود اھ (3/ 576)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه والمراد بالخروج كونها في غير منزله بغير إذنه اھ (4/ 195)
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): والحاصل أن المشهور وهو المتبادر من إطلاق المتون أنه يكفيها بيت له غلق من دار سواء كان في الدار ضرتها أو أحماؤها. (3/ 601)
ففي فتح القدير لابن الهمام: (قوله ولو أسكنها في بيت من الدار مفرد وله غلق كفاها) اقتصر على الغلق أفاد أنه وإن كان الخلاء مشتركا بعد أن يكون له غلق يخصه، وليس لها أن تطالبه بمسكن آخر اھ (4/ 397) والله اعلم بالصواب