السلام علیکم میری شادی کو 2سال ہوئے ہیں،اس دوران 2مرتبہ میرا حمل ضائع ہوگیا ہے، ہم جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں اور کچن گراؤنڈ فلور پر ہے،جب کہ میں فرسٹ فلور پر رہتی ہوں،ڈاکٹر نے مجھے ایامِ حیض/ماہواری سے 8۔10دن پہلے سیڑیاں چڑھنے اترنے سے احتیاط کا کہا ہے،ایسی صورت میں اگر میرے شوہر مجھے نیچے جاکر کھانا ،ناشتہ لانے کا کہے اور میں نہ جاؤں تو کیا میں گناہ گار ہوں گی؟
اگر سائلہ کو حمل ٹھہر گیا ہو اور واقعۃً کسی ماہر دیندار معالج نے اسے سیڑیاں چڑھنے اترنے میں احتیاط کا مشورہ دیا ہو اور اس کو واقعی نقصان کا اندیشہ بھی ہو تو ایسی صورت میں اپنا عذر شوہر کے سامنے رکھ کر انکار کی وجہ سے وہ گناہ گار نہ ہوگی۔
کمافی مرقاة المفاتیح: (وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ):وَالسُّجُودُ كَمَالُ الِانْقِيَادِ (لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا) : أَيْ: لِكَثْرَةِ حُقُوقِهِ عَلَيْهَا وَعَجْزِهَا عَنِ الْقِيَامِ بِشُكْرِهَا وَفِي هَذَا غَايَةُ الْمُبَالَغَةِ لِوُجُوبِ إِطَاعَةِ الْمَرْأَةِ فِي حَقِّ زَوْجِهَا (5/2125)۔
وفی الدر المختار: (امتنعت المرأة) من الطحن والخبز (إن كانت ممن لا تخدم) أو كان
بها علة (فعليه أن يأتيها بطعام مهيإ وإلا) بأن كانت ممن تخدم نفسها وتقدر على ذلك (لا) يجب عليه ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك لوجوبه عليها ديانة ولو شريفة؛ لأنه - عليه الصلاة والسلام - قسم الأعمال بين علي وفاطمة، فجعل أعمال الخارج على علي - رضي الله عنه - والداخل على فاطمة - رضي الله عنها - مع أنها سيدة نساء العالمين بحر.اھ(3/579)۔
وفی الشامیة:(قوله حاذق) أي له معرفة تامة في الطب، فلا يجوز تقليد من له أدنى معرفة فيه اھ(2/422)۔