السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میرا سوال یہ ہے کہ میری والدہ نے اپنی زندگی میں ایک مکان کے بارے میں وصیت کی تھی کہ وہ ہم تین بہنوں کے نام ہوگا۔ اس کے متعلق ہماری خالاؤں کو بھی بتایا گیا اور انہوں نے اپنی رضا مندی سے ایک تحریری کاغذ پر دستخط کیے کہ وہ اس وصیت پر راضی ہیں۔ اس میں گواہ بھی موجود ہیں (میں، میری بہن اور میرے شوہر)۔
ابتداء میں وہ اس پر راضی تھیں ،لیکن کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے گھر والوں (داماد وغیرہ) کے کہنے پر دوبارہ اس مکان کا حصہ مانگنا شروع کر دیا ہے اور یہ کہہ رہی ہیں کہ اس وقت انہیں پوری سمجھ نہیں تھی یا پراپرٹی کی ویلیو کا اندازہ نہیں تھا۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کی رو سے اس صورت میں ان کا دوبارہ مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ان کا پہلے دستخط کرنا شرعاً معتبر ہوگا یا نہیں؟ جزاکم اللہ خیراً۔
السلام علیکم!محترمہ سب پہلے تو یہ بتائیں کہ یہ گھر والد یا والدہ میں سے کس کی ملکیت تھا؟اگر والدہ کی ملکیت تھا تو ان کو یہ کیسے حاصل ہوا ؟ان کے والد یعنی آپ کے نانا کی میراث سے یا وہ کوئی ملازمت پیشہ تھی اور اس کی آمدن سے خریدا۔اور اب آپ کی والدہ حیات ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو ان کے ورثاء میں شوہر ،کتنے بیٹے اور کتنی بیٹیاں ،کتنے بھائی اور کتنی بہنیں ہیں؟اس کی وضاحت کریں۔تاکہ اس پر غور کے بعد جواب دیا جاسکے۔
جواب برائے وضاحت: میری والدہ محترمہ خود نوکری پیشہ تھی اور یہ گھر ان کی عمر بھر کی کمائی ہے،جبکہ میری والدہ وفات پاچکی ہےاوراس کے ورثاء میں فقط تین بیٹیاں اور دو بہنیں ہیں ،نرینہ اولاد کوئی نہیں ہے، شوہر اور ایک بھائی مرحومہ کی حیات میں ہی وفات پاچکے تھے۔
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کی مرحومہ والدہ نے زندگی میں مذکور مکان اپنی تینوں بیٹیوں کو بطور ہبہ دیکراس پر مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار نہ دیا ہو، بلکہ محض کاغذات میں انتقال کے بعد بیٹیوں کو دینے کی وصیت کی ہو،جس پر ان کی بہنوں (سائلہ کی خالاؤں ) نےاگرچہ والدہ مرحومہ کی حیات میں اس وصیت پر رضامندی کا اظہار کیا تھا، لیکن اب اگر وہ اس پر رضامند نہ ہوں اور اپنا شرعی حق لینے پر ہی مصر ہوں ،تو ایسی صورت میں یہ وصیت کالعدم شمار ہوگی اور مذکور مکان تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگا۔
کما في الفتاویٰ الهندية: ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، (إلى قوله) ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي (إلى قوله) ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية.اهـ (الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج: 6، ص: 90، مط: ماجدية)
وفی الدرالمختار:( وتتم)الهبة( بالقبض)الكامل(ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔الخ(کتاب الهبة، ج:5، ص:690، مط:سعید)
وفی السراجی فی المیراث: ولھن الباقی مع البنات اوبنات الابن؛لقولہ علیہ السلام "اجعلوا الاخوات مع البنات عصبۃ" (ص: 40، مکتبۃ البشریٰ)