السلام علیکم!سلام کے بعد گزارش ہے کہ میرے میاں صاحب ایک دین دار اور اچھے انسان ہیں، وہ تبلیغی مشن پر جاتے ہیں اور دو دو مہینے تک واپس نہیں آتے، جس سے میری فطری خواہشات پوری نہیں ہوتیں، اگر میں انکو تبلیغی مشن پر جانے سے روک دوں تو گناہ گار تو نہیں ہوں گی؟ پلیز اسلامی تعلیم سے نوازیں۔ شکریہ
سائلہ کے شوہر کو چاہیئے کہ بیوی کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تبلیغی امور سر انجام دے اور بیوی کی اجازت کے بغیر اتنا عرصہ گھر سے دوری اختیار نہ کرے جس سے بیوی کے گناہوں میں پڑنے کا اندیشہ ہو اور ایسی صورت میں جبکہ شوہر سے الگ رہنے سے خواہشات سے مغلوب ہو کر سائلہ کے کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو وہ اپنے شوہر کو زیادہ عرصہ گھر سے دور رہنے سے روک بھی سکتی ہے اور اسکی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہوگی۔
کما في الدر المختار: ولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها اھ
(وفی رد المحتار: تحت (قوله ولا يبلغ مدة الإيلاء) (الی قوله) ويؤيد ذلك أن عمر رضي الله تعالى عنه لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها۔اھ (3/ 203)