زید کی بیوی سے نا اتفاقی ہوگئی اور وہ ایسی ملازمت میں چلی گئی جس میں بے پردگی کا امکان ہے (ائیر ہوسٹس) زید بار بار معافی مانگ رہا ہےاور واپس لوٹنے کو کہہ رہا ہےتا کہ معاملہ ٹھیک ہو جائے اور طلاق کی نوبت نہ آئے لیکن بیوی واپس نہیں آنا چاہتی اور نہ ہی طلاق چاہتی ہے، وہ کسی کی بات مان نہیں رہی،یہاں تک کہ اپنے والدین کی بھی نہیں،اب کیا کرنا چاہیئے طلاق دینا یا پھر اور انتظار کرنا چاہیئے؟ زیدکو بالکل اسکا اسطرح کی ملازمت کرنا ایک لمحہ بھی پسند نہیں جہاں بے پردگی کا خوف ہو۔
واضح ہو کہ جب عورت کا کوئی کفالت کرنے والا موجود ہو تو اس کیلئے ملازمت کی غرض سے گھر سے نکلنا درست نہیں، خصوصاً جب شوہر کی اجازت بھی نہ ہو، اور ملازمت کے دوران بے پردگی کا بھی اندیشہ ہو، لہذا سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے اجتناب کرے، البتہ اگر وہ سمجھانے کے باوجود بھی باز نہ آئے تو سائل اسے ایک طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ بھی کر سکتا ہے۔
کما في البحر الرائق: حق الزوج على الزوجة أن تطيعه في كل مباح یا مرها به۔اھ (3/385)
وفي الدر المختار: يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية (وفي رد المحتار: تحت) (قوله بل يستحب) إضراب انتقالي ط (قوله لو مؤذية) أطلقه فشمل المؤذية له أو لغيره بقولها أو بفعلها ط (قوله أو تاركة صلاة) الظاهر أن ترك الفرائض غير الصلاة كالصلاة۔اھ (3/229)