نا اتفاقی کی وجہ سے زید کی بیوی گھر سے چلی گئی، ایئر ہوسٹس کی جوب کرنے جو کے زید کو بالکل پسند نہیں، زید کی غلطیاں تھیں جس کی بار بار معافی مانگ کر بیوی کو واپس آنے کی التجاء کر رہا ہے، اب وہ جوب نہیں چھوڑنا چاہتی، بیوی جوب نہ چھوڑنے کی شرط پر واپسی کو تیار ہو تو کیا حکم ہوگا؟ اسے طلاق دینا بہتر ہے یا جوب کے ساتھ ہی رکھنا؟ یہ سوچتے ہوئے کہ آگے چل کر وہ جوب چھوڑ دے۔
واضح ہو کہ بیوی کا نان نفقہ شرعا شوہر کے ذمہ واجب ہے اس لئے بلا ضرورت سائل کی بیوی کو ایسی ملازمت اختیار کرنا کہ جس میں غیر محارم اور اجنبی لوگوں کے سامنے آنے جانے کی نوبت آتی ہو جائز نہیں، سائل کی بیوی کو چاہیے کہ اگر ملازمت کرنی ہی ہے تو ایسی ملازمت اختیار کرے کہ غیر محرم کے سامنے آنے جانے کی نوبت نہ آئے جیسے ٹیچنگ وغیرہ کی ملازمت ، لہٰذا اپنے ہنستے بستے گھر کو خراب کرنے کے بجائے اس کو آباد کرنے کی فکر کرنی چاہیے، اس سلسلہ میں سائل کو بھی جذباتی فیصلہ کرنے اور جلد بازی کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، بلکہ برادری کے بڑوں اور دیندار لوگوں کے ذریعہ معاملہ حل کرنے اور گھر کو آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
كما في الدر المختار: (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة اھ (1/ 406) واللہ اعلم بالصواب