السلام علیکم میں نے نکاح والدین کی زبر دستی کی وجہ سے کیا، شادی کو تین سال ہونے والے ہیں ، مالی حالات ٹھیک نہیں ہو رہے، میرے شوہر ہر بات پر بلاوجہ جھوٹ بولتے ہیں ، اسی وجہ سے میرے جہیز تک کا سامان تک جل گیا، میں نے بہت بار سمجھایا کہ غربت میں گزارا کر سکتی ہوں ، مگر جھوٹ نہیں ، مجھے جھوٹ سے نفرت ہے، تین سالوں میں برداشت کر کر کے میری دماغی حالت تک خراب ہو گئی ہے، مجھے ڈاکٹر نے علاج کا کہا، میں ہر وقت شوہر سے بد تمیزی کرتی ہوں ، اور اب تو گالیاں تک دینے لگی ہوں ، جو بہت کوشش کے باوجود مجھ سے کنٹرول نہیں ہو رہا، میرے ابو کہتے ہیں، اپنی آخرت خراب کرنے کی بجائے علیحد گی اختیار کر لو، کیا میں ایسا کروں تو اللہ کے ہاں میری پکڑ تو نہ ہوگی، میری دو بیٹیاں ہیں، ایک دو سال کی ہے، اور ایک دو ماہ کی ہے۔
سائلہ کا شوہر اگر واقعۃً جھوٹ کا عادی ہو، تو اس کی یہ عادت انتہائی بڑی ہے، اور گناہ کبیرہ کی عادت اور جسارت ہے، جس سے اس کو روکنے کی کوشش اور ہدایت کی دعا کرنی چاہیے ، مگر اس کی وجہ سے اپنے گھر کو اجاڑنے کی فکر میں لگ جانا ، اور شوہر کو گالی گلوچ کرنا بھی انتہائی غلطی اور گناہ ہے ، سائلہ پر لازم ہے کہ شوہر سے اس طرح بد تمیزی سے پیش نہ آئے ، بلکہ اس کے ساتھ نرمی اور ادب سے پیش آئے ، ان شاء اللہ بہتر ہو گا۔ تاہم اگر نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ، اور برادری کے بڑوں کی کوشش بھی بے سود جائے، تو پھر اس صورت میں سائلہ کو اپنے شوہر سے طلاق یا خلع لیکر علیحدہ ہونا بھی درست ہے۔
ففي الفقه الإسلامي وأدلته: هي حقوق مشتركة بين الزوجين، لكن حق الزوج على زوجته أعظم من حقها عليه، لقوله تعالى: {وللرجال عليهن درجة} [البقرة:228/2] وللحديث السابق عند أبي داود: «لو كنت آمراً أحداً أن يسجد لأحد، لأمرت النساء أن يسجدن لأزواجهن، لما جعل الله لهم عليهن من الحق» . ويسن لكل من الزوجين تحسين الخُلُق لصاحبه والرفق به واحتمال أذاه وسوء طباعه، لقوله تعالى: {والصاحب بالجنب} [النساء:36/4] أي الإحسان له، وللحديث المتقدم: «استوصوا بالنساء خيراً» وحديث «خياركم خياركم لنسائه» اھ (9/ 326)
و في الجامع في الحديث: قال وأخبرني الليث بن سعد عن ابن العجلان عن عون بن عبد الله عن ابن شهاب أنه قال : ( ما حل من الكذب شيء قط لا جاداً ولا هازلاً وإنَّ العبد ليصدق حتى يمتلئ قلبه برا وما يبقى منه موضع ابرة من فجور وإن العبد ليكذب حتى يمتلئ قلبه فجورا فما يبقى في قلبه موضع إبرة من بر، الصدق يهدي إلى البر ، والبر يهدي إلى الجنة . والكذب يهدي إلى الفجور ، والفجور يهدي إلى النار . وآية ذلك أنه يقال صدق وبر وكذب وفجر ) اھ (2/ 614) واللہ اعلم بالصواب