اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے ، اور طلاق کے وقت یہ معاہدہ ہوا تھا، کہ بیوی اپنا حق مہر چھوڑے گی ، معاہدے کے مطابق بیوی نے اپنا حق مہر چھوڑ دیا، لیکن اس کے پانچ سے سات سال بعد اس کا شوہر چاہتا ہے، کہ وہ حق مہر ادا کرے اور عورت بھی چاہتی ہے کہ وہ حق مہر قبول کرے تو کیا یہ ممکن ہے ، اگر ممکن ہے توکیا قمیت ہو گی ، طلاق کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہو گا یا ابھی کی قیمت کا اعتبار ہو گا، جیسے سو نا ،زمین۔
مذکور شخص سے طلاق لیتے وقت اگربیوی نے اپنے حق مہر کو طلاق کا عوض ٹھہرایا تھا، یا بدل خلع مقرر کیا تھا، تو وہ عوض یا بدل بن چکا ہے، اب شوہر پر اسکی ادائیگی لازم نہیں، البتہ اگر شوہر اپنی مرضی سے اسے حق مہر ادا کرنا چاہتا ہو تو اس کا اسے اختیار ہے ، اوروہ طلاق کے وقت کی قیمت کے حساب سے یا ابھی کی قیمت کے حساب سے مہر ادا کرے دونوں صورتیں جائز اور درست ہے ۔
کمافی القرآن المجید: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ الخ(المائدۃ/1)
وفی البحرالرائق: (قوله كتاب الهبة)هي لغة التفضل على الغير بما ينفعه ولو غير مال واصطلاحا ما أشار إليه المصنف (قوله هي تمليك العين بلا عوض)(الی قوله) وسببها إرادة الخير للواهب دنيوي كالعوض وحسن الثناء والمحبة من الموهوب له(7/284)
وفی الدرالمختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل)اھ(5/690)