کیا فرماتے ہیں علما ءکرام مندرج ذیل مسئلہ میں کہ میری بیٹی مسماۃ ایلما کا نکاح مسمی گلزارہ سے آج سے تقریباً ایک سال قبل ہو گیا تھا ، گھر میں پریشانیاں چلتی رہیں، لیکن میری بیٹی نے ہمیں کچھ نہیں بتایا تھا ، آج سے تقریباً پانچ ماہ قبل میری بیٹی میرے گھر آئی تھی، اس کے بعد سے اب تک انہوں نے پوچھا بھی نہیں ، اب ہم چاہتے ہیں کہ رشتہ ختم کیا جائے ، تو کیا طلاق اور جدائی کی صورت میں لڑکی حق مہر کی حقدار ہےکہ نہیں ؟ نکاح نامہ میں تین تولہ مہرلکھا ہے، لیکن ابھی تک کچھ بھی نہیں دیا گیا، اور اب تک میری بیٹی جو میرے گھر میں ہے، اس دوران کانان و نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ نہیں ؟
اولاً تو سائل کو وقتی رنجش اور چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے اپنی بیٹی کا رشتہ ختم کرنے کے بجائے اپنے داماد سے بات کرکے گھر بسانے کی پوری کوشش کرنی چاہئیے ، تا ہم اگر پوری کوشش کے باوجود بھی نبھا کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ، یا سائل کا داماد اپنی بیوی کے واجبی حقوق کی ادائیگی میں کوتا ہی کا مرتکب ہو رہا ہو اور یہ رشتہ ختم کرنا ہی مسئلہ کا واحد حل ہو تو ایسی صورت میں اگر سائل کی بیٹی اپنے شوہر سے حق مہر کی معافی کے عوض خلع یا طلاق کا مطالبہ کرے اور وہ حق مہر کی معافی کے عوض خلع یا طلاق دیدے، تو طلاق کے بعد سائل کی بیٹی اپنے حق مہر کی حقدار نہ ہوگی ، البتہ اگر سائل کا داماد اپنی مرضی سےیا سائل کے مطالبہ پر حق مہر معاف کرائے بغیر طلاق دیدے تو اس صورت میں وہ مکمل حق مہر ادا کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ سائل کی بیٹی کیلے اگر باقاعدہ ماہوار نان و نفقہ کی مقدار طے نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں گزشتہ عرصہ کے نان ونفقہ کی حقدار نہ ہوگی۔
قال الله تعالی: وآتوا النساء صدقاتھن نحلة ( سورة النساء آیت:4)۔
وفي الهندية : والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمىً أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيئ بعد ذلك الا بالابراء من صاحب الحق كذا في البدائع الخ (ج 1 ص 33 ط: ما جدية)۔
وفیها أيضاً: وان نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هی الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه الخ (ج 1 ص 545)۔
وفي الدر المختار : (فتجب للزوجة ) بنكاح صحيح (إلى قوله) (على زوجها ) لأنها جزاء الاحتباس (ج3 ص572 )۔
وفيه أيضاً: (وخارجة من بيته بغير حق) وھی الناشزۃ حتى تعود الخ (3 ص 576 ط: سعید)۔واللہ اعلم