ترجمہ:اگر رخصتی سے قبل طلاق دی جائے ،اور حق مہر میں ایک لاکھ روپے کیش ،تین سولہ سونا،اور ایک کمرہ ہے،اس میں سے اب کچھ لڑکی کو دینا ہوگا ،شریعت کےمطابق رہنمائی فرمائیں۔
میاں بیوی کے درمیان اگر نکاح کے بعد ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر نہ آیا ہو ،جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو (یعنی ان کے درمیان خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو) اور اس سے قبل شوہر بیوی کو طلاق دیدے،تو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ عقد نکاح کے وقت طےشدہ حق مہر میں سےآدھے مہر کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما فی الهداية:و إن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى " لقوله تعالى: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [البقرة: 237] الآية، والأقيسة متعارضة ففيه تفويت الزوج الملك على نفسه باختياره وفيه عود المعقود عليه إليها سالما فكان المرجع فيه النص وشرط أن يكون قبل الخلوة لأنها كالدخول عندنا على ما نبينه إن شاء الله تعالى اھ (1/199)۔