شوہر نے بیوی کو ورغلا کر پلاٹ لینے کے لئے حق مہر کا سونا بمع کچھ جہیز بیچا اور ساتھ یہ بھی کہا جب تمہیں طلاق دوں گا تو واپس کر دوں گا اور پیسے انویسٹ کر دیے ، اب طلاق کے بعد سونا واپس نہیں کر رہا، بلکہ کہتا ہے کہ رضا مندی سے بیچا تھا۔
شوہر نے اگر واقعۃً واپسی کی صراحت کیساتھ بیوی کو حق مہر میں ملنے والا سونا اور جہیز کا سامان بیچ کر حاصل کردہ رقم کو اپنے استعمال میں لایا ہو تو اب شوہر پر اس کا واپس لوٹانا لازم اور ضروری ہے۔
کمافی الدرالمختار: فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة الخ
وفی الشامیۃ: (قوله عقد مخصوص) الظاهر أن المراد عقد بلفظ مخصوص، لأن العقد لفظ، ولذا قال أي بلفظ القرض ونحوه أي كالدين وكقوله: أعطني درهما لأرد عليك مثله اھ(5/161)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: واما الابراء عن الدیون الثابتۃ فی الذمم: فھو صحیح بالاتفاق،لان مدار الابراء ھو اسقاط مافی الذمم اھ(6/216)۔