السلام علیکم! میری طلاق ہو گئی ہے، اب شوہر زیور کا مطالبہ کر رہے ہیں ،ایک جو شادی کے موقعہ پر دیا تھا ،دوسری دفعہ تحفہ دیا تھا،پھرشادی کے کچھ دیر بعد طلاق دے دی، اور اس وقت تجدید نکاح کیا اور اس تجدید کے حق مہر کے لئے وہ دونوں زیور مہر مقرر ہواتھا اسکے بعد تیسرا جو زیور تحفہ میں دیا تھا اسکا بھی مطالبہ کر رہے ہیں ،ہم امریکہ میں رہتے ھیں ،اور شادی یہیں پر ہوئی تھی،برائے مہربانی اس بارے میں شرعاً کیا حکم ہے، فتوی دے دیجئے؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو تو اسکے مطابق سائلہ کو اسکے شوہر نے شادی کے بعد جوزیورات باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ بطور ِتحفہ (اور گفٹ)دیے تھے،وہ تو سائلہ کی ملکیت بن چکے تھے ،اسی طرح شادی کے موقع پر سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو جو زیورات دیے تھے ،وہ اگر فقط استعما ل کے لئے عاریۃً نہ دیے ہو ں،بلکہ باقاعدہ مالکانہ طور پر تحفۃً دیے ہوں،یا خاندانی عرف ورواج میں شادی کے موقع پر دیے جانےوالے زیورات باقاعدہ مالکانہ طور پر دیے جاتے ہوں تو ایسی صورت میں سائلہ ان زیورات کی بھی مالک بن چکی تھی،چنانچہ جب یہ زیورات سائلہ کی ملکیت تھے تو شوہر کے لئے تجدیدِ نکاح کے موقع پرانہیں زیورات کو حق مہر قرار دے کر حق مہر کی ادائیگی نہ کرنا درست نہیں ، بلکہ ان کے ذمہ دوسرے نکاح کے حقِ مہر کی ادائیگی بھی الگ سے لازم ہوگی،جبکہ اسکے بعد تیسرے موقع پر بھی اگر زیورات سائلہ کو باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ تحفۃًدیے ہوں،تو سائلہ ان زیورات کی بھی مالک بن چکی ہیں،لہذا اب طلاق کے بعد سائلہ کے شوہر کے لئے شرعاً ان زیورات کی واپسی کامطالبہ درست نہیں ،جس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار:(و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولابملك الواهب منع تمامهااھ(5/690)۔
و فیہ ایضاً: لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية اھ(4/378)۔
و فیہ ایضاً:(و لو بعث إلى امرأته شيئا و لم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله لشمع أو حناء ثم قال إنه من المهر لم يقبل قنية لوقوعه هدية فلا ينقلب مهرا (فقالت هو) أي المبعوث (هدية وقال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه و البينة لها، فإن حلف و المبعوث قائم فلها أن ترده -(و) القول (لها) بيمينها (في المهيإ له)الخ (ولو ادعت أنه) أي المبعوث (من المهر و قال هو وديعة فإنه كان من جنس المهر فالقول لها،الخ(3/151)۔
و فیہ ایضآً:(وكذا يجب) مهر المثل (فيما إذا لم يسم) مهراالخ(3/189)۔