کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ میں شبنم بنت مجاہد خان کراچی کی رہائشی ہوں،مؤرخہ 24/3/2 کومیرے شوہرمحمد بلال حسین ولد غلام حسین نے مجھے کہا کہ آپ کو مکان دے رہا ہوں،اس لیے میرے ساتھ چلو،ہم دونوں موٹرسائیکل پر بیٹھ کر City Court گئے،وہاں پر مجھے کہا کہ اس کاغذ پر انگوٹھا لگادو،میں نے کچھ کاغذات پر انگوٹھے لگادیئے اس کے بعد مجھے کہا کہ میں نے آپ کو طلاق دی ہے،میں نے اپنے شوہر بلال کا گریبان پکڑا اور کہا کہ تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا،وہاں پر موجود لوگوں نے بیچ بچاؤ کرایا،پھر ہم دونوں موٹرسائیکل پر بیٹھ کر گھر آئے،اس کے بعد مجھے مجبور کیا کہ اپنا Video ریکارڈ کراؤ،میں نے انکار کیا،مجھ پر تشدد کیا،آخر کار پستول لے کر آیا اور کہا کہ میں دونوں بچوں بیٹا سلیمان اور بیٹی سمیہ کو آپ کے سامنے گولی ماردوں گا،اس کے بعد آپ کی باپ کو بھی گولی ماردونگا،میں نے مجبوراً ویڈیو ریکارڈ کرائی،اور اس کے بعد مجھے میرے باپ کے گھر چھوڑ کر آیا،طلاق نامہ مجھے آج مؤرخہ 24/7/6 کو ملا،جس میں انکشاف ہوا کہ میں نے حقِ مہر سے دستبرداری کی ہے اور بیٹا اس کے حوالے کیا ہے،اب ازروئے شریعت بتائیں کہ کیا باہمی رضامندی والی طلاق مؤثر ہے اور حقِ مہر سے دستبرداری مؤثر ہے جو کہ دھوکہ دہی سے انگوٹھے لگوائے گئے ہیں؟
2: تشدد کے ذریعے ویڈیو بیان لیا گیا ،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
3: بچے جن کی عمریں4 سال اور3 سال ہیں،میرے پا س ہیں اور ان کانان نفقہ کس کے ذمہ ہوگا اور کتنا ہوگا؟
نوٹ: سائلہ کے والد نے بتایا کہ ویڈیو ریکارڈ میں لڑکی نے شوہر کے اس بات کے جواب میں کہ "لڑکا میرے پاس ہوگااور لڑکی تمہارے پاس " صرف"ہاں ،ہاں" کیا ہے ،ویڈیو ریکارڈنگ میں باقی کچھ نہیں بتایا ۔
واضح ہوکہ طلاق کے وقوع کے لیے بیوی کی رضامندی شرعاً لازم اور ضروری نہیں،لہذا سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابق اصل ہو،اور شوہر مسمی محمد بلال حسین نے بلا جبر واکراہ اپنی مرضی سےخود بھی اس پر دستخط کیے ہوں اور بیوی سے بھی دستخط کرائے ہوں،تو اس کی وجہ سے سائلہ پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایامِ عدت کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
جبکہ میاں بیوی کے درمیان طلاق ہوجانے کی صورت میں لڑکا سات(7)سال اور لڑکی نو (9) سال کی عمر کو پہنچنےتک شرعاً ماں ہی ان کی پرورش کی زیادہ حقدار ہوتی ہے،اور اس دوران ان کے نان نفقہ اور ان کی کفالت پر آنے والے تمام اخراجات ان کے والد کے ذمہ اس کی وسعت کے مطابق لازم ہوتے ہیں،لہذا سائلہ کے شوہر کا سات سال سے قبل بچہ کو ماں سے علیحدہ کرکے اپنی تحویل میں لینا درست نہیں،بلکہ اسے اپنے مذکور رویّہ سے اجتناب لازم ہے،نیز سائلہ کے شوہر کا سائلہ کے علم میں لائے بغیر اسے دھوکہ دیکر طلاق نامہ پر دستخط لینے سے سائلہ کا حقِ مہر معاف نہیں ہوا ہے بلکہ سائلہ کے شوہر پر اس کی ادائیگی لازم اور ضروری ہےاور نہ دینے کی صورت میں سائلہ کو ہر قسم کا جائز طریقہ اختیار کرنا درست ہوگا۔
قال اللہ تعالٰی : فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ( سورۃ البقرۃ آیت230)۔
وفی احکام القرآن للجصاصؒ: ( فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ) فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنین و لم یفرق بین ایقاعھما فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ایّ وجہ اوقعہ الخ (ج1 ص386 ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان ) ۔
و فی الہندیۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ(الی قولہ)لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحاو یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایہ اھ(کتاب الطلاق 1/506)۔
کمافی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما وقت الحضانة التي من قبل النساء فالأم والجدتان أحق بالغلام حتى يستغني عنهن فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده كذا ذكر في ظاهر الرواية، وذكر أبو داود بن رشيد عن محمد ويتوضأ وحده يريد به الاستنجاء أي ويستنجي وحده ولم يقدر في ذلك تقديرا وذكر الخصاف سبع سنين أو ثمان سنين أو نحو ذلك الخ (ج4 ص42 کتاب الحضانۃ،فصل فی وقت الحضانۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي الخ (ج1 ص541 کتاب الطلاق،الباب السادس عشر فی الحضانۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول الخ (ج1 ص542 کتاب الطلاق،الباب السادس عشر فی الحضانۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: الفتاوى الهندية: وإن حطت عن مهرها صح الحط، كذا في الهداية. ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح ومن أن تكون مريضة مرض الموت هكذا في البحر الرائق.اھ(ج1 ص313 کتاب النکاح،الباب السابع فی المھر ط: ماجدیۃ)۔
وفی رد المحتار تحت (قوله وصح حطها) الحط: الإسقاط كما في المغرب، وقيد بحطها لأن حط أبيها غير صحيح لو صغيرة، ولو كبيرة توقف على إجازتها، ولا بد من رضاها. ففي هبة الخلاصة خوفها بضرب حتى وهبت مهرها لم يصح لو قادرا على الضرب. اهـ.(ج3 ص113 کتاب النکاح،باب المھر ط: سعید)۔