میں ایک جگہ نکاح پڑھانے کیلئے گیا مجلس نکاح میں دولہا،دلہن کے و الد ، اور بھائی و دیگر اعزہ و اقارب دوست و احباب معز ز ین موجود تھے ،سب سے پہلے میں نے دو لہن کے بھائی سے کہا دو لہا اور دولہن کا نام بمع ولدیت کسی پرچی پر لکھ کر کے مجھے دے دو ، اس نے مجھے لکھ کر دے دیا ، تھوڑی دیر کے بعد میں نے ا س سے کہا کہ مہر کتنا ہے، اس نے کہا شرعاً مہر کی جو کم از کم رقم بنتی ہے ،وہ کتنی ہے میں نے کہا تقریباً پندرہ ہزار روپے ، پھر وہ دولہا کی طرف متوجہ ہو گیا ،اور اس سے کہا کہ یہ رقم آپ نے ادا کرنی ہے ،اس نے کہا میں حاضر ہوں اور پھر ہنسنے لگا بوجہ خوشی کے، پھر میں نے تین آدمی لڑکی کی طرف بھیجے تا کہ اس کی رضا مندی معلوم کرکے آئیں اور یہ کہ وہ اپنے نکاح کا وکیل کس کو ٹھہراتی ہے ، ایک آدمی نے لڑکی سے پوچھا اور دو آدمی اس پر گو اہ تھے ،پھر انہوں نے آ کر بتایا کہ لڑکی اس نکاح پر رضامند ہے ، اور اپنے نکاح کا وکیل اپنے والد صاحب کو منتخب کیا ہے ، اس کے بعد میں نے سینکڑوں گوا ہوں کی موجو دگی میں نکاح کا خطبہ پڑھا ،پھر لڑکی کے والد سے ا یجاب کروایا اور دولہا کو قبول کروا یا، اس وقت میں نے جو الفاظ کہے تھے وہ یہ تھے؛ "نکاح خواں(یعنی میں) لڑکی کے والد سے(بات کرتے ہوئے):شفیع محمد کیا آپ نے اپنی بیٹی بی بی سعدیہ زید کے نکاح میں دیدیا ؟ شفیع محمد: جی دے دیا ، نکاح خواں (یعنی میں)زید سے :زید بن عمر کیا آپ نے شفیع محمد کی بیٹی بی بی سعدیہ کو اپنے نکاح میں قبول کیا ؟ زید : جی قبول کیا اس کے بعد میں نے دو لہا اور دو لہن والوں کو مبارک باد دی ، اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ،دعا کے بعد ایک آدمی نے کہا حافظ صاحب آپ نے ا یجاب و قبول تو کرلیا مگر مہر کا تذکرہ بھی ا یجاب و قبول میں نہیں کیا ، میں نے کہا ا وہو مجھے تو یاد ہی نہیں رہا ، پھر میں نے کہا مہر پندرہ ہزار روپے ہے، بھائی سارے سن لیں (میں نے اس بنیاد پر کہا تھا جو وہ مجھے بتا چکے تھے (جیسا کہ شروع میں بتا چکا ہوں تفصیل سے)کیوں کہ لڑکی کے بھائی والے مجھے ا یجاب و قبول سے پہلے مہر کے متعلق بتا چکے تھے ، اس حساب سے میں نے مقرر کیا تھا اور دولہا ا یجاب و قبول سے پہلے مذکورہ مہر کو ہنسی خوشی قبول کر چکا تھا،اب بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نکاح منعقد نہیں ہوا کیوں کہ ا یجاب و قبول میں تعیین مہر و تذکرہ مہر نہیں ہوا ، نکاح خواں کو ایجاب کے وقت یوں کہنا چاہیے تھا کہ "مثلا کیا آپ نے ا پنی فلاں بیٹی کا نکاح فلاں فلاں کے بیٹے کو بعوض شرعی حق مہر پندرہ ہزار روپے میں دیا ،اور قبول کرواتے وقت یوں کہنا چاہیئے تھا کہ کیا آپ نے فلاں کی بیٹی بعوض شرعی حق مہر پندرہ ہزار روپے میں قبول کیا، لیکن نکاح خواں نے ا یجاب و قبول میں مہر کا تذکرہ نہیں کیا خواہ بھول کر یا عمدا؟ اس سلسلے میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ نکاح منعقد ہو ا یا نہیں؟ اور مہر کا مسئلہ کیسے حل کیا جائے؟پندرہ ہزار روپے جو طے ہوا تھا قبل الا یجاب و بعدالا یجاب برضاءالفر یقین وہی مہر صحیح ہے یا ا ز سر نو مقرر کیا جائے؟ کیا نکاح کے بعد مہر مقرر کرنا درست ہے ؟ کیا ا یجاب و قبول میں مہر کا تذکرہ کرنا ضروری ہے؟اگر ہاں تو ا گر بھول جائے تو کیا کیا جائے؟کیا دوبارہ ایجاب و قبول کروا یا جائے؟ کیا نکاح سے پہلے مہر مقرر کرنا صحیح ہے ؟ بینوا توجروا جزاکم اللہ خیرا
واضح ہو کہ نکاح کے وقت حق مہر کا تذکرہ کرنا نکاح منعقد ہو ے کیلئے شرعاً لازم اور ضروری نہیں ،لہذا سائل نے جب گوا ہوں کی موجود گی میں دو لہن کے وکیل ( والد ) اور دو لہا سے ا یجاب و قبول کروا یا تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہو چکا ہے،اور اس کے نتیجے میں مذکور لڑکا اور لڑکی میاں بیوی بن چکے ہیں،جبکہ ا یجاب وقبول سے قبل جو حق مہر (پندرہ ہزار روپے) طے ہو ا تھا ، ا گر یہ فر یقین کی رضامندی سے طے ہوا ہو ، جس پر نکاح کے بعد بھی انہوں نے آمادگی ظاہر کی ہو ، تو شرعاً یہ حق مہر طے ہو چکا ہے ،اب دوبارہ حق مہر طے کرنا لازم اور ضروری نہیں ۔
کما فی الفتاوى الهندية :(و أما ركنه) فالإيجاب و القبول، كذا في الكافي و الإيجاب ما يتلفظ به أو لا من أي جانب كان و القبول جوابه هكذا في العناية (الی قوله) (و منها) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع اھ (1/267) ۔
و فی بدائع الصنائع: و يجوز النكاح بدون المهر حتى إن من تزوج امرأة، و لم يسم لها مهرا بأن سكت عن ذكر المهر أو تزوجها على أن لا مهر لها ورضيت المرأة بذلك يجب مهر المثل بنفس العقد عندنا حتى يثبت لها ولاية المطالبة بالتسليم اھ (2/274) ۔
وفی الفتاوى الهندية: و لو فرض القاضي لها مهرا أو فرض الزوج بعد العقد ففي حال التأكيد يتأكد كما يتأكد مهر المثل اھ (1/304) والله اعلم